ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کوایک اور جھٹکا دینے کی تیاری، پی ٹی آئی میدان میں آگئی

datetime 1  اگست‬‮  2022 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف نے استعفوں کی مرحلہ وارمنظوری کا اقدام عدالت میں چیلنج کردیا۔پیر کو پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری اسد عمر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے اور ارکان اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا۔

اس موقع پر اسد عمر نے کہا کہ 11 بندوں کے جو استعفے منظور کرنے کا تماشا لگایا ہے ہم اس کے خلاف عدالت آئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ11 اپریل کو اسمبلی کے فلور پر ہمارے 125 لوگوں نے کہا کہ ہم نے استعفے دے دئیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مرضی کے 11 استعفے منظورکیے، پی ٹی آئی اس سازش کا حصہ بننے کو تیار نہیں تھی اس لیے استعفے دئیے، اب الیکشن کمیشن کی جانب سے غیرقانونی کام کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہاکہ الیکشن کمیشن اب سیاسی فریق بن چکا ہے اور ادارہ پی ڈی ایم کا حصہ بن گیا ہے ہم اس کے خلاف ریفرنس دائرکرنے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے جن ارکان کے استعفے منظور کیے گئے ان میں علی محمد خان، فضل محمد خان، شوکت علی، فخر زمان خان، فرخ حبیب، اعجاز شاہ، جمیل احمد خان، اکرم چیمہ ، شیریں مزاری، شاندانہ گلزار اور عبدالشکور شاد شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…