ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت چلانے والے چار وزیر اعظم ہیں، گاڑی کیسے چلے گی؟ سراج الحق

datetime 22  مئی‬‮  2022 |

اسلام آباد(آن لائن ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ حیران ہوں، حکومت چلانے والے چار وزیراعظم ہیں، اس وقت آصف زرداری، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف وزیراعظم ہیں۔ اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے تحت منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ اگر ایک گاڑی کو چلانے والے چار ڈرائیورز ہوں تو گاڑی کیسے چلے گی؟

عدم اعتماد لانے سے قبل شہباز شریف سے کہا تھا کہ یہ نہ کریں کیونکہ آپ عمران خان کو شہید بنا رہے ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے اپیل کرتا ہوں سود کے نظام کے خاتمے کیلئے کام کریں، مولانا فضل الرحمان صاحب! آپ کا تو ایجنڈا یہی تھا، آپ نے کہا تھا حکومت ملتے ہی سودی نظام کا خاتمہ کروں گا، ہماری سیاست مزدوروں، کاشتکاروں، اور غریبوں کی سیاست ہے۔انہوں نے کہا کہ میں دو مرتبہ صوبہ خیبرپختونخوا کا وزیر خزانہ رہا ہوں، میں نے بینک سے سود فری نظام چلایا ہے، سروے کے مطابق پاکستان میں ہر روز لوگ 40 ارب روپیہ خیرات و صدقات دے سکتے ہیں، سودی نظام کا خاتمہ کیا گیا تو اللہ بھی ساتھ دے گا، اللہ آسمان سے برکتوں اور زمین سے رحمتوں کے دروازے کھول دے گا۔ سراج الحق نے کہا کہ 14 سالوں سے سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، 9 سالوں سے پی ٹی آئی کی حکومت ہیدو دن قبل پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت تھی اب اللہ کو علم ہے کس کی حکومت ہے؟ حیران ہوں گلہ کس سے کروں، مطالبہ کس سے کروں؟ سندھ میں پی پی ، پنجاب میں ن اور کے پی میں پی ٹی آئی سود کا خاتمہ کرے۔ انہوںنے کہا کہ سودی نظام اللہ کے ساتھ جنگ کا نظام ہے، اسلامی نظام ایسے نہیں چل سکتا ہے، بہت سارے مغربی ممالک میں سود ختم ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں جو کچھ گزرا وہ آئندہ نہ گزرے، ہم سود فری پاکستان بنانا چاہتے ہیں، آئندہ بجٹ سود فری بجٹ ہونا چاہئے سراج الحق نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم آئی ایم ایف کی طرف دیکھ رہے ہیں، پاکستان پر اس وقت اربوں روپے کے قرضے ہیں، بیرونی کمپنیوں سے قرض لینے کے بجائے عوام کو شراکت دار بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…