اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

حکومت چلانے والے چار وزیر اعظم ہیں، گاڑی کیسے چلے گی؟ سراج الحق

datetime 22  مئی‬‮  2022 |

اسلام آباد(آن لائن ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ حیران ہوں، حکومت چلانے والے چار وزیراعظم ہیں، اس وقت آصف زرداری، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف وزیراعظم ہیں۔ اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے تحت منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ اگر ایک گاڑی کو چلانے والے چار ڈرائیورز ہوں تو گاڑی کیسے چلے گی؟

عدم اعتماد لانے سے قبل شہباز شریف سے کہا تھا کہ یہ نہ کریں کیونکہ آپ عمران خان کو شہید بنا رہے ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے اپیل کرتا ہوں سود کے نظام کے خاتمے کیلئے کام کریں، مولانا فضل الرحمان صاحب! آپ کا تو ایجنڈا یہی تھا، آپ نے کہا تھا حکومت ملتے ہی سودی نظام کا خاتمہ کروں گا، ہماری سیاست مزدوروں، کاشتکاروں، اور غریبوں کی سیاست ہے۔انہوں نے کہا کہ میں دو مرتبہ صوبہ خیبرپختونخوا کا وزیر خزانہ رہا ہوں، میں نے بینک سے سود فری نظام چلایا ہے، سروے کے مطابق پاکستان میں ہر روز لوگ 40 ارب روپیہ خیرات و صدقات دے سکتے ہیں، سودی نظام کا خاتمہ کیا گیا تو اللہ بھی ساتھ دے گا، اللہ آسمان سے برکتوں اور زمین سے رحمتوں کے دروازے کھول دے گا۔ سراج الحق نے کہا کہ 14 سالوں سے سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، 9 سالوں سے پی ٹی آئی کی حکومت ہیدو دن قبل پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت تھی اب اللہ کو علم ہے کس کی حکومت ہے؟ حیران ہوں گلہ کس سے کروں، مطالبہ کس سے کروں؟ سندھ میں پی پی ، پنجاب میں ن اور کے پی میں پی ٹی آئی سود کا خاتمہ کرے۔ انہوںنے کہا کہ سودی نظام اللہ کے ساتھ جنگ کا نظام ہے، اسلامی نظام ایسے نہیں چل سکتا ہے، بہت سارے مغربی ممالک میں سود ختم ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں جو کچھ گزرا وہ آئندہ نہ گزرے، ہم سود فری پاکستان بنانا چاہتے ہیں، آئندہ بجٹ سود فری بجٹ ہونا چاہئے سراج الحق نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم آئی ایم ایف کی طرف دیکھ رہے ہیں، پاکستان پر اس وقت اربوں روپے کے قرضے ہیں، بیرونی کمپنیوں سے قرض لینے کے بجائے عوام کو شراکت دار بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…