ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ناظم جوکھیو قتل کیس، عدالت کا تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار،جام عبدالکریم کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

datetime 11  اپریل‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائی کورٹ نے جام عبدالکریم اور دیگرکی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے حکم دیاہے کہ ایک ہفتے میں کیس کا چالان اے ٹی سی کورٹس کے منتظم جج کی عدالت میں پیش کیا جائے۔ پیرکوسندھ ہائی کورٹ میں ناظم جوکھیو قتل کیس میں پیپلزپارٹی رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم ودیگر کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی۔جام عبدالکریم عدالت میں پیش نہیں ہوئے

، ان کی طرف سے وکیل نے عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست جمع کرائی۔ جس میں کہا گیا کہ جام عبدالکریم آج پیش نہیں ہوسکتے حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔ جسٹس عمرسیال نے ریمارکس دیئے کہ نہیں نہیں ایسے کیسے حاضری سے استثنیٰ تو نہیں دیا جا سکتا جس پر وکیل نے کہا کہ جام عبدالکریم اسلام آباد میں ہیں آج وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہونی ہے۔ جام کریم نے اپنا ووٹ کاسٹ کرنا ہے آئندہ سماعت پرپیش ہوجائیں گے۔عدالت نے جام عبدالکریم کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے استفسار کیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر نے آپ کو کیس کا چالان انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے اظہارِ برہمی کیا کہ حیرت ہے ابھی تک اے ٹی سی میں کیس کا چالان کیوں نہیں پیش کیا گیا؟تفتیشی افسرسراج لاشاری نے کہا کہ میں چالان مکمل کرکے پراسیکیوٹرجنرل کے دفتر میں جمع کروادیا تھا۔ پراسیکیوٹرجنرل آفس نے چالان پراعتراضات لگا دیے تھے۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیس کی فائل اب کس کے پاس ہے۔تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ کیس کی فائل میرے پاس ہے مجھے ایک ہفتے کی مہلت دی جائے۔ تاکہ پراسیکیوٹر جنرل آفس کے اعتراضات ختم کرکے چالان جمع کرادوں گا۔عدالت نے ایک ہفتے میں کیس کا چالان اے ٹی سی کورٹس کے منتظم جج کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیتے ہوئے جام عبدالکریم و دیگر کی ضمانت میں 14 اپریل تک توسیع کردی۔نیشنل کمیشن فارہیومین کی جانب کیس میں فریق بنانے کی درخواست پر فریقین کے وکلا سے دلائل طلب کرلیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…