اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

ممبران کو پارلیمنٹ آنے سے روکنا آئین کی مخالفت ہے، مریم اور نگزیب

datetime 13  مارچ‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ ممبران کو پارلیمنٹ آنے سے روکنا آئین کی مخالفت ہے۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ عمران صاحب اگر اپنے ممبران پریقین ہے تو پارلیمنٹ میں آنے پہ پاپندی کیوں لگا رہے ہیں ؟ممبران کو پارلیمنٹ آنے سے روکنا آئین کی مخالفت ہے۔ انہوںنے کہاکہ انشاء اللہ ممبران پارلیمنٹ بھی آئیں گے اور آپ کو ووٹ بھی نہیں دیں گے ۔

انہوںنے کہاکہ نقل وحرکت پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی،اپنا ووٹ استعمال کرنا ہر شخص کا آئینی حق ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آئین کے آرٹیکل15 کے تحت رکن قومی اسمبلی ہو یا کسی عام شہری کی نقل وحرکت پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی ۔ ذرائع کے مطابق رکن قومی اسمبلی کو اپنے جمہوری حقوق کی ادائیگی سے نہیں روکا جاسکتا ۔ انہوںنے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 17کے تحت سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا رائے دہی کا استعمال رکن قومی اسمبلی کا بنیادی آئینی حق ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مجلس شوری، پارلیمنٹ کے ارکان کو آئین نے مخصوص ذمہ داریاں تفویض کی ہیں ،ان ذمہ داریوں میں وزیراعظم کا انتخاب ، عدم اعتماد میں شرکت، سپیکر کا انتخاب اور اس پر عدم اعتماد کے عمل میں حصہ لینا شامل ہے۔ انہوںنے کہاکہ آئین کے تحت منتخب کرنے والا ایوان ہی انہیں عہدے سے ہٹانے کا بھی اختیار رکھتا ہے،اس ضمن میں تمام عمل کی وضاحت آئین کے آرٹیکل 95 میں درج ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ارکان قومی اسمبلی کو روکنا ان کے بنیادی آئینی حقوق سلب کرنا ہے ،ایم این ایز پر پابندی ان کے نقل وحرکت کے آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ایم این ایز کی نقل وحرکت پر پابندی ان کے آئین میں درج بنیادی حق کو سلب کرنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایم این ایز کو ووٹ دینے کے بنیادی حق اور آزادمرضی سے فیصلہ کرنے سے روکنا کہ وزیراعظم کون ہو، آئین سے رو گردانی ہے۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق کی جاتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم پیش کرنے کی اجازت آئین پاکستان دیتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ دستورمیں درج طریقہ کار کو روکنے کے لئے طاقت یا غیرقانونی ہتھکنڈے استعمال کرنے والا آئین شکنی کا مرتکب ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ آئین شکنی دستور کے آرٹیکل 6 کے تحت ہائی ٹریڑن یعنی بغاوت کا جرم ہے ، جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات ، ڈرانے دھمکانے، رکاوٹیں کھڑی کرکے اسمبلی تک نہ پہنچنے دینا آئین شکنی کے زمرے میں آتا ہے ،ان اقدامات کا ارتکاب کرنے والوں کو آئین میں درج سزا کی شکل میں اپنی دستور شکنی کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…