ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں کے حوالے سے از سرِ نو پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے، جسٹس منصور علی شاہ

datetime 6  مارچ‬‮  2022 |

لندن (این این آئی)سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں کے حوالے سے از سرِ نو پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے،چیف جسٹس کچھ ماہ کیلئے آئے تو وہ کچھ نہیں کر سکتا،چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت 3 سال ہونی چاہیے،عدلیہ میں سلیکشن کی بنیاد پرتقرریاں نہیں ہونی چاہئیں، اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں کی پالیسی ازسرِنوتشکیل دی جانی چاہیے

اور خواتین ججزکی تقرری سے متعلق جامع پالیسی ہونی چاہیے۔لندن اسکول آف اکنامکس میں دو روزہ فیوچر آف پاکستان کانفرنس سے خطاب میں جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ چیف جسٹس کچھ ماہ کیلئے آئے تو وہ کچھ نہیں کر سکتا،چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت 3 سال ہونی چاہیے۔انہوںنے کہاکہ عدلیہ میں سلیکشن کی بنیاد پرتقرریاں نہیں ہونی چاہئیں، اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں کی پالیسی ازسرِنوتشکیل دی جانی چاہیے اور خواتین ججزکی تقرری سے متعلق جامع پالیسی ہونی چاہیے۔سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ کسی قسم کے دباؤکا شکار نہیں ہے، جج اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں، جوڈیشل ایکٹوازم جائز ہے لیکن اسے سیاست کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔منصور علی شاہ نے کہا کہ سوموٹو کا اختیارکا ناجائز استعمال ہوتا ہے، اس کا استعمال بڑے بینچزکو کرنا چاہیے، سوموٹوکے بینچ میں کم ازکم 5 یا 7ججز ہونے چاہئیں۔انہوںنے کہاکہ مقدمات نمٹانے کیلئے ایک سال کی مدت مقرر ہونی چاہیے اور مقدمات کے فیصلے سے قبل ثالثی کی روایات کو فروغ دیا جانا چاہیے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 70 سال سے عدلیہ میں کوئی مؤثر اصلاحات نہیں ہوئیں لہذا عدلیہ میں مؤثر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…