ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

فیصل آباد‘ پاکستانی نژاد جرمن شہری بھائیوں کے ہاتھوں قتل

datetime 3  جنوری‬‮  2022 |

مکوآنہ (این این آئی )فیصل آباد میں جائیداد کے تنازع پر پاکستانی نڑاد جرمن شہری کو بھائیوں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا، مقتول وراثتی جائیداد میں سے بہنوں کو حصہ دلوانا چاہتا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق مقتول کچھ عرصہ قبل ہی جرمنی سے واپس لوٹا تھا، جسے ایک ماہ پہلے بھی بھائیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔فیصل آباد کے علاقے سمن آباد میں پاکستانی نڑاد جرمن شہری گل ربان جائیداد کا

معاملہ حل کرنے کیلئے تقریباً تین ماہ قبل پاکستان آیا تھا، جسے اس کے بھائیوں اور بھتیجوں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔پولیس کے مطابق پچاس سالہ مقتول کے بڑے بھائی عبدالمنان نے ایف آئی آر میں 6 افراد کو نامزد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقتول اپنے بھائیوں قمر زمان، رضوان خان، عمران خان کے بلانے پر وراثتی دکان کا تنازع حل کرانے کیلئے گیا جسے مذکورہ تینوں ملزمان نے عمران خان کے بیٹوں عثمان، زین اور ایک ساتھی حسنین کے ساتھ مل کر قتل کردیا۔عبدالمنان نے بتایا کہ واقعے کے مطابق ہفتہ کی شام جب گل رْبان اور میں وراثتی دکان پر پہنچے تو مذکورہ ملزمان جو پہلے سے مسلح تھے، نے فائرنگ کردی، واقعے میں گل رْبان کو 2 گولیاں لگیں جبکہ ایک راہگیر بھی دو گولیاں لگنے سے زخمی ہوا، مقتول پر ملزمان نے زخمی حالت میں تشدد بھی کیا جو بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گیا۔ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار نے بتایا کہ زخمی راہگیر انس کو تشویشناک حالت میں سول اسپتال فیصل آباد ریفر کردیا گیا۔پڑوسی دکاندار عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ دْکان میں بیٹھے تھے جب گولیاں چلنے کی آواز آئی، باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک شخص زخمی پڑا ہے جبکہ پڑوسی کا بھائی بھی دکان کے اندر زخمی تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گل رْبان اپنی بہنوں کو وراثتی جائیداد میں سے حصہ دلوانا چاہتا تھا، جس پر اس کا اپنے بھائیوں سے تنازع چل رہا تھا۔سمن آباد پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے مقتول کے ایک بھائی قمر زمان کو گرفتار کرلیا۔گل رْبان کا روزگار بیرون ملک تھاتفصیلات کے مطابق گل رْبان تقریباً 25 سال قبل جرمنی گیا تھا، اس کے دیگر 8 بھائی اور دو بہنیں والدین کے ہمراہ فیصل آباد میں ہی مقیم تھیں، جن کیلئے وہ وہ وہاں سے کثیر رقم بھی بھیجتا رہا ہے، مقتول جرمن نیشنل تھا اور اس کے بیوی بچے بھی جرمنی میں ہی مقیم ہیں۔لواحقین کے مطابق گل رْبان نے بیرون ملک سے رقم بھیج کر اپنے دیگر بھائیوں کو کاروبار کرایا، جنہوں نے یہاں اس کی بھیجی رقم سے والدین کے نام پر پراپرٹیز بھی بنائیں،تفصیلات کے مطابق گل رْبان کو چند سال قبل پتہ چلا کہ اس کے بھائی اس کے ساتھ دھوکہ کررہے ہیں، وہ والد کے انتقال کے باوجود اس سے علاج کیلئے رقم منگواتے رہے جبکہ انتقال کی خبر بھی نہیں دی، تاہم جب وہ پاکستان آیا تو اسے حقیقت کا پتہ چلا۔رپورٹ کے مطابق گل رْبان اور بھائیوں میں جائیداد کا تنازع شروع ہوا اور اس نے دکان اور پراپرٹی کے معاملے پر بھائیوں کیخلاف ایک کیس جس کا فیصلہ اس کے حق میں آیا تاہم بھائیوں نے منڈی چوک سمن آباد پر واقع دکان خالی نہیں کیا ذرائع کے مطابق تقریباً تین ماہ قبل مقتول ایک بار پھر جائیداد کا معاملہ سلجھانے کیلئے فیصل آباد آیا، جہاں ایک ماہ قبل اس کے بھائیوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا تاہم اس کا مؤقف تھا کہ وہ اپنے لئے جائیداد میں سے کچھ نہیں چاہتا مگر دونوں بہنوں کو ان کا حق دیا جائے۔گزشتہ روز مقتول گل رْبان معاملہ سلجھانے کیلئے بھائیوں کے بلانے پر اپنے بھائی عبدالمنان، دوست اور وکیل کے ساتھ وراثتی دکان گیا تھا، جہاں واقعہ پیش آیا-

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…