ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اگر ملک میں ترقی خوشحالی اور معیار زندگی بلند کرنا ہے تو سائنس کے میدان میں آگے آنا ہوگا،شبلی فراز

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا ہے کہ اگر ملک میں ترقی خوشحالی اور معیار زندگی بلند کرنا ہے تو سائنس کے میدان میں آگے آنا ہوگا،ای وی ایم کے قریب جانے سے بھی ڈرتی ہے،ہم نے ملک میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو ترقی دینی ہے اس سوچ کو توڑنا ہے۔بدھ کو ورلڈ سائنس ڈے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ سائنس سے متعلق ہمیں

سوچنے کی ضرورت ہے ،کیا وجہ ہے کہ ہم سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہ گئے،اگر ملک میں ترقی خوشحالی اور معیار زندگی بلند کرنا ہے تو سائنس کے میدان میں اگے آنا ہوگا،سائنس کی وجہ سے انسانوں کو فائدہ پہنچانا ضروری ہے ،جتنی ریسرچ ہوئی ہے لیکن نتائج اتنے نہیں ملے ،ریسرچ برائے ریسرچ کا کوئی فائدہ نہیں ہے،گفتار اور عمل کے غازی میں فدق پیدا کرنا ہے،حالیہ مثال الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہے جسے قبول نہیں کیا جارہا۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ اپوزیشن ای وی ایم کے قریب جانے سے بھی ڈرتی ہے،ہم نے ملک میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو ترقی دینی ہے اس سوچ کو توڑنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نماز پڑھتے ہیں لیکن ہمیں معنی نہیں آتے ،اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانی کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا ملک میں کلچر ہی نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پرائمری لیول سے چہارم کلاس تک اسٹیم پروگرام لارہے ہیں ،اگلے دو ہفتوں میں اسٹیم پروگرام کو صوبوں تک لے جائیں گے ۔ شبلی فراز نے کہاکہ ہماری حکومت نے شروع سے ہی ماحولیات پر توجہ دی،ایک طرف ہم نے ایٹم بم جہاز بنا لیئے لیکن ہم نے عوام کی زندگی میں آسانی کے لیئے کچھ نہیں کیا ،ایک گیز کے گیس کا ضیائع اتنا ہے جسے ہم روک نہیں سکے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ میڈیا نے 3000 میگا واٹ انرجی بچانے کے منصوبے پر بات ہی نہیں کی ،عوام کے بجلی کے بلز کم آئیں گے ،گاڑیوں کے انجنز پر کام کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ افسوس کی بات ہے دنیا چاند پر پہنچ گئی ہم گیز کی بات کررہے ہیں ،ہم ایک لائٹر تک نہیں بنا سکے ہر چیز ہم نے امپورٹ کی ہے،ویتنام کی ایکسپورٹ 216 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…