ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان عطیہ خداوندی ہے جو لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کا ثمر ہے ‘راجہ ظفر الحق

datetime 29  اگست‬‮  2021 |

سرگودھا(این این آئی)سینٹ آف پاکستان کے سابق قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ پاکستان عطیہ خداوندی ہے جو لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کا ثمر ہے ۔ قومی تشکیل کے لیے اْسی جذبے کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ تحریکِ پاکستان میں کیا گیا۔ نسلِ نو کو

حصولِ پاکستان کے مقاصد سے روشناس کروانے کے لیے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ذرائع کے مطابق سینٹ آف پاکستان کے سابق قائد راجہ ظفر الحق نے حسن ابدال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔ جہاں سٹیج پر جسٹس (ر) میاں نذیر اختر، سید احمد مسعود ،ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، قاضی ظہور الحق،راجہ غیاث الدین بلبن، ڈاکٹر سرفراز خان،طاہر درانی، عابد حسین، نادیہ سعیداور دیگر تھے۔اس موقع پر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ قیام پاکستان کے لیے سرسید احمد خان ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال،اورقائداعظم محمد علی جناح ایسی عظیم ہستیوں نے خوابیدہ قوم کو بیدار کر کے اْنھیں عمل کی دعوت دی۔ قیام پاکستان کے پیچھے ایک طویل جدوجہد اور مقصد عظیم تھا مگر آج قوم کے بچوں تک ان قربانیوں کی حقیقت نہیں پہنچائی جا سکی اس ضمن میں ہم سب قصور وار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک خواب کی تعبیر تھا جو جاگتی آنکھوں دیکھا گیا اور جس کی تعبیر کے لیے سرسید احمد خان۔علامہ اقبال اور قائد اعظم ایسی عظیم ہستیوں نے جدو جہد کی ۔جسٹس میاں نذیر اختر، ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، سید احمد مسعود اور دیگر نے سرسید احمد خان اور دیگر شخصیات کے قیام پاکستان کے حوالے سے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں کی پستی کا سبب دین اور قرآن سے دوری ہے۔قرآن میں دنیا کے ہر شعبے کی رہنمائی موجود ہے مگر ہم نے اس کو سمجھنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی۔ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ان کی تربیت پر بھی محنت کرنا ہو گی اور انھیں باور کروانا ہو گا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کے حکم اور منشائ￿ سے قائم ہوا اور اس کے قیام میں نہ صرف لاکھوں جانوں کی قربانیاں پیش کی گئیں بل کہ اس کے قیام کے پیچھے ایک طویل مخلصانہ جدوجہد تھی۔ تقریب میں دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے اور مختلف شعبوں میں نمایاں کارگزاری کامظاہرہ کرنے والی 21نامور شخصیات کو اْن کی صلاحیتوں کے اعتراف میں شیلڈز پیش کی گئیں۔جن میں راجہ ظفر الحق۔سید احمد مسعود۔جسٹس میاں نذیر اختر۔پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم۔محمد شریف شاد۔ڈاکٹر غلام جیلانی برق(مرحوم)۔برگیڈیر(ر) طارق جاوید۔جبار مرزا۔ کرنل (ر) نوید ظفر۔کرنل (ر) سید ظفر الدین۔سید فراز مجتبیٰ۔ڈاکٹر ناصر جمال۔محمد ضیائ￿ الدین۔پروفیسر منظور الحق صدیقی(مرحوم)۔قاضی ظہور الحق۔ابرار الحق شاکر۔ڈاکٹر توقیر احمد۔راجہ نور محمد نظامی۔عرفان طالب۔قاضی عبدالمالک۔مسکین مغل(مرحوم) شامل تھے۔ تمام مقررین نے سینئر ممبر بی او جی راجہ غیاث الدین بلبن۔چیئرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر سرفراز خان اور صدر سرسید ایجوکیشنل فاونڈیشن طاہر درانی ،راجہ نور محمد نظامی ،قاضی ظہور الحق ، جبار مرزا اور دیگر کو ایوارڈز سے نوازا گیا۔ کاوشوں کو ہدیہ ؟ تحسین پیش کیا۔ صلاحیتوں کے اعتراف سے صلاحیتیں مزید پروان چڑھتی ہیں۔ اس تقریب کا اختتام قومی ترانہ پر ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…