ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ ہائیکورٹ نے کینجھرجھیل میں حفاظتی انتظامات سے متعلق درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

datetime 16  اگست‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائیکورٹ نے کینجھرجھیل میں حفاظتی انتظامات سے متعلق درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پہنور اورجسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کینجھرجھیل میں حفاظتی انتظامات سے متعلق جسٹس ہیلپ لائن کے محمد ندیم اے شیخ ایڈووکیٹ و دیگر کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس امجد علی سہتو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں منیجنگ ڈائریکٹر سندھ ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن ایس ٹی ڈی سی، ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ اورایس ایس پی ٹھٹھہ کومکمل طور پر انتظامات کے عمل کو سختی سے یقینی بنانے کی ہدایت کردی اور آفس کو حکم دیا ہے کہ مذکورہ حکمنامے کی نقول وزیر اعلی سیکرٹریٹ، منیجنگ ڈائریکٹر سندھ ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن ، ایس ٹی ڈی سی، ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ، ڈی آئی جی حیدر آباد اورایس ایس پی ٹھٹھہ کو ارسال کی جائیں۔ عدالت نے اپنے 5 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا ہے کہ عدالت کی جانب سے وقتا فوقتا کینجھر جھیل میں سیاحوں کے لیے انتظامات اور ضروری سہولیات کے لیے احکامات جاری کیئے گئے تاکہ مستقبل میں ایسا ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ کینجھر جھیل کے مکینزم و ایس او پیز کے حوالے سے بھی رپورٹ پیش کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ جھیل پر کشتیوں کی آمد رفت کے لیے 3 جے ٹیز تعمیر کردی گئی ہیں۔ کشتی کی سیر کے لئے ٹکٹ خریدنے کے کاونٹر قائم کردیا گیا ہیں جبکہ کشتیوں پر رجسٹرڈ لائف جیکٹس بھی موجود ہوں گی۔ جھیل میں سیر کے لیے دو کلو میٹر کا ایریا مختص کردیا گیا ہے۔ آگاہی کے لئے سیفٹی سائن بورڈز بھی نصب کردئیے گئے ہیں۔ جھیل پر ایک واچ ٹاور تعمیر کردیا گیا ہے۔ جھیل پر حفاطتی اقدامات کے پیش نظر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کردئیے گئے ہیں۔ درخواستگزار نے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ گزشتہ برس کینجھر جھیل غیر حفاظتی انتظامات کے باعث حادثہ پیش آیا تھا اور اس حادثے میں خواتین و بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق ہوگئے تھے اور حادثے کا شکار خاندانوں کا تعلق محمود آباد سے تھا۔ ناقص حفاظتی انتظامات کے باعث حادثہ پیش آیا تھا۔ کینجھرجھیل میں حفاظتی انتظامات نہیں ہیں۔ لہذا استدعا ہے کہ کینجھرجھیل میں حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…