پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

منی لانڈرنگ اور کرپشن کا جھوٹا واویلا کرکے عمران خان نے ملک کو بلیک لسٹ ہونے کے دہانے پر پہنچادیا

datetime 13  مئی‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ فون پر ہیلو ہیلو کرنے کے ڈرامے سے ملک کے گلی کوچوں میں مہنگائی کے سونامی کی تباہی ختم نہیں ہوسکتی۔سیاسی انتقام کے لئے منی لانڈرنگ اور کرپشن کا جھوٹا واویلا کرکے عمران خان نے ملک کو بلیک لسٹ ہونے کے دہانے پر پہنچادیا۔اپنے

بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کرپشن کے خلاف عمران خان کی مہم دراصل قوم کے ساتھ ہونے والا ایک ایسا فراڈ ہے، جس نے ملک کے روشن مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگادئیے، مافیا کے سرپرست عمران خان کے احتساب کے جھوٹے نعرے کا پول کھل چکا، عوام اب اس جھانسے میں نہیں آئیں گے، غیرملکی سرمایہ دار کیسے بھروسہ کریں گے کہ عمران خان خود پاکستان کو خدانخواستہ کرپشن کا گڑھ ثابت کرتے رہے ہیں، یومیہ 12 ارب روپے کی کرپشن کا الزام لگا کر اقتدار میں آنے والوں نے اپنی حکومت کے 997 دنوں میں مبینہ یومیہ کرپشن کا کتنا پیسہ قومی خزانے میں جمع کرایا؟چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آج اگر عوام مہنگائی کی وجہ سے بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہورہے ہیں تو اس کے ذمہ دار صرف عمران خان ہیں، یہ تبدیلی نہیں یہ تباہی ہے، فون پر ہیلو ہیلو کرنے کے ڈرامے سے ملک کے گلی کوچوں میں مہنگائی کے سونامی کی تباہی ختم نہیں ہوسکتی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی مسلسل نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتی رہی مگر حکومت نے ایسا نہ کیا اور معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات پڑے، سیاسی انتقام کے لئے منی لانڈرنگ اور کرپشن کا جھوٹا واویلا کرکے عمران خان نے ملک کو بلیک لسٹ ہونے کے دہانے پر پہنچادیا، شرمندگی کا مقام ہے

کہ کمبوڈیا، گھانا اور زمبابوے جیسے پسماندہ ممالک کے ہمراہ پاکستان بھی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہ نکل سکا، پاکستان پیپلزپارٹی نے گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے جو مثر حکمت عملی بنائی تھی، اگر عمران خان اس پر ہی عمل کرلیتے تو ملک کا فائدہ ہوجاتا لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے ملک کو یورپی یونین سے جی ایس پی پلس کا درجہ دلوایا اور اسے بھی عمران خان نے دا پر لگادیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…