اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

سپریم کورٹ نے کورٹ مارشل کیخلاف سابق لیفٹیننٹ کی اپیل پر تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

datetime 6  مئی‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے کورٹ مارشل کیخلاف سابق آرمی افسر کی درخواست مسترد کر دی۔ کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے دلائل دئیے کہ میرے موکل کا کورٹ مارشل بنتا ہی نہیں،میرا موکل چھٹیوں پر تھا جب بچی کا قتل ہوا، ہمارا مقدمہ سول عدالت میں چلنا چاہیے تھا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کو آرمی رولز کے تحت عمر قید کی سزا دی گئی،سزا دیتے وقت تمام شواہد اور حقائق کو مدنظر رکھا گیا۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر قرار دیا کہ آرمی ایکٹ کے مطابق یہ کیس کورٹ مارشل کا ہی بنتا ہے، عدالت نے کورٹ مارشل کیخلاف سابق لیفٹیننٹ عاصم بشیر کی اپیل مسترد کر دی۔یاد رہے سابق لیفٹیننٹ عاصم بشیر بہاولپور کینٹ میں تعینات تھے،2011 میں والدہ کی بھتیجی کے قتل کے جرم میں عاصم بشیر کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ کے پی کے کی جانب سے جاری ترقیاتی فنڈز سے متعلق معاملہ کی سماعت کے موقع پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرکے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دئیے کہ کیا یہ رمضان میں سننے کے لیے سریس کیس نہیں؟درخواست گزار رکن کے

پی کے اسمبلی خوش دل خان نے موقف اپنایا کہ عدالت کے حکم پر ترقیاتی فنڈز سے متعلق اضافی دستاویزات جمع کرادی ہیں، باقی عدالت سماعت سے متعلق جو مناسب سمجھے حکم جاری کر دے۔عدالت عظمیٰ نے ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملہ کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔معاملہ میں رکن کے پی کے اسمبلی خوش دل خان نے غیر جانبداری سے فنڈز کی تقسیم کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…