ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے کورٹ مارشل کیخلاف سابق لیفٹیننٹ کی اپیل پر تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

datetime 6  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے کورٹ مارشل کیخلاف سابق آرمی افسر کی درخواست مسترد کر دی۔ کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے دلائل دئیے کہ میرے موکل کا کورٹ مارشل بنتا ہی نہیں،میرا موکل چھٹیوں پر تھا جب بچی کا قتل ہوا، ہمارا مقدمہ سول عدالت میں چلنا چاہیے تھا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کو آرمی رولز کے تحت عمر قید کی سزا دی گئی،سزا دیتے وقت تمام شواہد اور حقائق کو مدنظر رکھا گیا۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر قرار دیا کہ آرمی ایکٹ کے مطابق یہ کیس کورٹ مارشل کا ہی بنتا ہے، عدالت نے کورٹ مارشل کیخلاف سابق لیفٹیننٹ عاصم بشیر کی اپیل مسترد کر دی۔یاد رہے سابق لیفٹیننٹ عاصم بشیر بہاولپور کینٹ میں تعینات تھے،2011 میں والدہ کی بھتیجی کے قتل کے جرم میں عاصم بشیر کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ کے پی کے کی جانب سے جاری ترقیاتی فنڈز سے متعلق معاملہ کی سماعت کے موقع پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرکے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دئیے کہ کیا یہ رمضان میں سننے کے لیے سریس کیس نہیں؟درخواست گزار رکن کے

پی کے اسمبلی خوش دل خان نے موقف اپنایا کہ عدالت کے حکم پر ترقیاتی فنڈز سے متعلق اضافی دستاویزات جمع کرادی ہیں، باقی عدالت سماعت سے متعلق جو مناسب سمجھے حکم جاری کر دے۔عدالت عظمیٰ نے ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملہ کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔معاملہ میں رکن کے پی کے اسمبلی خوش دل خان نے غیر جانبداری سے فنڈز کی تقسیم کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…