ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ میں ماں نے 2 بچوں کی خاطر10 تولہ سونا قربان کر دیا

datetime 6  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں ماں نے دو بچوں کی خاطر دس تولہ سونا قربان کر دیا۔سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ فیصلہ کیخلاف والد زین اللہ کی اپیل منظور کر لی۔پشاور ہائیکورٹ نے والدہ مہناز بی بی کو جہیز کو دس تولہ سونا دینے کا حکم دیا تھا۔بچوں کے والد زین اللہ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔سپریم کورٹ نے

والدین کی رضا مندی سے کیس کا فیصلہ کر دیا ہے۔ معاملہ کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سر براہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی نے وکیل درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ دس تولہ کا مقدمہ کسی بھی عدالتی فورم پر ثابت نہیں کر پائے،ہائیکورٹ کے دس تولہ سونا جہیز میں دینے کے فیصلہ کی بنیاد کیا ہے،اگر والدہ کو دس تولہ سونا کے عوض دونوں بچے مل جائیں کیا یہ ٹھیک ہو گا، والدہ کے وکیل نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ والدہ دو بچوں کے لیے دس تولہ سونا قربان کرنے کو تیار ہے۔عدالت عظمیٰ نے فریقین کی رضا مندی پر معاملہ نمٹا دیا ہے۔دوسری جانب سپریم کورٹ میں وزیر اعلیٰ کے پی کے کی جانب سے جاری ترقیاتی فنڈز سے متعلق معاملہ کی سماعت کے موقع پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرکے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دئیے

کہ کیا یہ رمضان میں سننے کے لیے سریس کیس نہیں؟درخواست گزار رکن کے پی کے اسمبلی خوش دل خان نے موقف اپنایا کہ عدالت کے حکم پر ترقیاتی فنڈز سے متعلق اضافی دستاویزات جمع کرادی ہیں، باقی عدالت سماعت سے متعلق جو مناسب سمجھے حکم جاری کر دے۔عدالت عظمیٰ نے ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملہ کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔معاملہ میں رکن کے پی کے اسمبلی خوش دل خان نے غیر جانبداری سے فنڈز کی تقسیم کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…