جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

الیکٹرانک ووٹنگ مشین، جسٹس (ر) وجیہ الدین نے وزیراعظم عمران خان کے موقف کی حمایت کر دی

datetime 2  مئی‬‮  2021 |

کراچی (آن لائن)عام لوگ اتحاد کے رہنما جسٹس (ر) وجیہ الدین نے الیکٹرونک ووٹنگ مشینز کو پاکستانی جمہوریت کیلئے لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا ابھی ڈسکہ الیکشن کا مسئلہ ذہن سے نکلا نہیں تھا کہ بلدیہ ٹاؤن این اے 249 کا تنازع اٹھ کھڑا ہوا۔ غیر سرکاری

طور پر منتخب شدہ پی پی امیدوار کے برتری والے ووٹ اْن ووٹوں سے بھی کم نکلے جو رد شدہ ہیں۔ ٹرن آؤٹ تقریباً 22 فیصد رہا۔ جبکہ 2018ء کے الیکشن میں یہ 40 فیصد تھا۔ فوراً سے ن لیگ کے امیدوار نے دوبارہ گنتی اور رسیدوں پر انگوٹھوں کے نشانات کی فارنسک آڈٹ کی استدعا کردی۔ اس مرتبہ 2018ء کی کامیاب پارٹی یعنی پی ٹی آئی تقریباً آخری نمبر پر نظر آئی۔ ان حالات میں وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر انتخابی قوانین کی اصلاحات کا معاملہ اٹھا دیا، جو آناً فاناً میں پی پی اور ن لیگ نے اس بنیاد پر رد کیا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین (EVM’s) کی اصطلاح پاکستانی مزاج سے میل نہیں کھاتی۔ انہوں نے بتایا کہ دراصل یہ صرف EVM’s کا مسئلہ نہیں خود الیکشنز ایکٹ 2017ء میں بھی سقم ہیں، جس میں پہلے کے قوانین کو یکجا کرکے ایک چوں چوں کا مربہ بنایا گیا ہے۔ اس طرح ووٹ ڈالنا ایک نہایت پیچیدہ عمل بن گیا ہے اور ووٹر گھر سے نکلنے پر حقیقتاً گھبراتا ہے، نتیجہ ٹرن آؤٹس کا مستقل انحطاط۔ اس کے برعکس EVM’s کے استعمال کیلئے مخصوص یومِ الیکشن کے علاوہ ووٹر، اپنی آسانی کے مطابق، دنوں پہلے بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اور نتیجتاً الیکشن کے دن لمبی لمبی قطاریں اور دیگر مشکلات ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔ آج کے دور میں بھارت کے علاوہ تقریباً تمام ترقی یافتہ ممالک میں EVM’s

کا ہی رواج ہے۔ اور کبھی الیکشن میں دھاندلی کی آواز سننے میں نہیں آتی۔ امریکہ کے پچھلے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی انتہائی کاوشوں کے باوجود کوئی دھاندلی ثابت نہ ہوسکی۔ دوئم یہ کہ اب جب ہم سمندر پار پاکستانیوں کو بھی ووٹ کا حق دینے جا رہے ہیں اور بیلیٹ ڈاک کے ذریعے بھی وصول ہوا کریں گے تو موجودہ نظام میں اس کی

کوئی معتبر گنجائش نہیں۔ EVM’s کی اصلاحات کی بات عمران خان نے کی ہے، جبکہ اسے رد ن لیگ اور پی پی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نگاہ میں پی ٹی آئی کا موقف اصولی ہونے کے سبب درست ہے۔ وقت بھی اصلاحات کیلئے موزوں ہے، کیونکہ تھوڑے ہی عرصے میں بلدیاتی انتخابات ہونے کو ہیں جہاں اس نظام کو متعارف کرایا جاسکتا ہے۔ اور 2023ء کے عام الیکشن تک اس میں پختگی لائی جا سکتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان میں جمہوریت ایک سہانہ خواب ہی رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…