جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

بشیر میمن کا یوٹرن، اب اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے وفاقی وزیر فواد چودھری نے بھی بڑا اعلان کر دیا

datetime 2  مئی‬‮  2021 |

اسلا م آباد(آن لائن )وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) بشیر میمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ان سے ملاقات کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نام نہیں لیا۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بشیر میمن نے کہا کہ وزیراعظم سے ان کی ملاقات دو سے تین منٹ رہی، جس میں انہوں نے کسی مخصوص کیس کی

بات نہیں کی۔ ایک سوال پر کہ کیا کہ وزیراعظم نے ملاقات کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نام لیا تھا؟ تو بشیر میمن نے نفی میں جواب دیا تاہم وہ دیگر حکومتی عہدیداروں کے نام پر قائم ہیں جنہوں نے سپریم کورٹ کے جج کے خلاف کیس بنانے کیلیے دباؤ ڈالا۔بشیر میمن نے کہا کہ وہ اس حق میں ہیں کہ عدالتی کمیشن تشکیل دینا چاہیے جو اس معاملے کو دیکھے اور ‘اگر میں جھوٹا ہوں تو بھی ثابت ہوگا اور اگر میں سچا ہوں تو ثابت ہوجائے گا’۔انہوں نے کہا کہ اجلاس ریکارڈ کا حصہ ہے، ‘وزیراعظم کے دفتر، وزیراعظم ہاؤس یا کہیں اور کوئی بھی شخص ایسے نہیں جاسکتا، میرا اسٹاف بھی جانتا تھا کہ میں کہا جارہا ہوں، ریکارڈ کہیں پر موجود ہوگا اور یہ اتنی پریشانی کی بات نہیں ہے’۔قبل ازیں سابق ڈی جی ایف آئی بشیر میمن وزیر اعظم اور حکومت پر دباؤ ڈال کر مخالفین کے خلاف مقدمات بنوانے سمیت سنگین الزامات عائد کیے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ مرزا شہزاد اکبر نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیس شروع کرنے لیے دباؤ ڈالا جبکہ حکومتی عہدیداروں نے الزامات مسترد کردیے تھے۔ دوسر ی جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر پر بشیر میمن کا نجی ٹی وی سے انٹرویو جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘وزیر اعظم کی ذات پر الزام لگائیں، ہیڈلائنز بنائیں اور بعد میں آرام سے یو ٹرن لے لیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘ٹی وی چینل سے کہو تو میڈیا کی آزادی میں خطرہ اور اگر مہمان سے پوچھو تو سیاسی انتقام کا نعرہ، یہ سلسلہ بند ہونا ہو گا’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…