جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد ریفرنس بنانے والے مستعفی ہو جائیں، لاہور ہائیکورٹ بار  بھی میدان میں آ گئی

datetime 29  اپریل‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظر ثانی کیلئے دائر پٹیشن پر سپریم کورٹ کے 10رکنی بنچ کے 6معزز ججزکے متفقہ فیصلہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے بنچ کی اکثریت کے دلیرانہ اور تاریخی فیصلہ نے پاکستان کی تمام بار کونسلز، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنز اور بار ایسوسی ایشنز کی آئین اور قانون کی

بالادستی کیلئے جدوجہد کو مزید تقویت دی ہے ،حالیہ فیصلہ نے ان عناصر کو شکست دی ہے جو پچھلے دو سال سے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلہ کی بناء پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نشانہ بنانے پر تلے ہوئے تھے او ر اس طرح عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہچانا چاہتے تھے۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر محمد مقصود بٹر ،نائب صدر مدثر عباس مگھیانہ ،سیکرٹری خواجہ محسن عباس اورفنانس سیکرٹری فیصل توقیر سیال نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہمیں امید ہے حالیہ فیصلہ سے ان عناصر کے مذموم عزائم خاک میں مل گئے ہیں ، تمام حقائق کی روشنی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام نہیںہے اور لندن کے فلیٹس کی قیمت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بیگم سرینہ عیسیٰ نے خود اپنے اکائونٹ سے ادا کی اور رقوم کی ترسیل قانون کے مطابق کی گئی اس کے باوجود کیس میں بیگم سرینہ عیسیٰ کو شامل کرنا ان کو یرغمال بنانے کی کوشش کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس مطالبہ کی پرزور تائید و حمایت کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان دیدہ و نادیدہ قوتوں کو مستعفی ہونا چاہئے جنہوں نے جھوٹا اور بے بنیاد ریفرنس بناکر سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا۔ حالیہ فیصلہ نہ صرف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی فتح بلکہ آزاد عدلیہ کی فتح ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے تمام معزز ججزبشمول جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے درخواست کی کہ وہ عدلیہ کی آزادی کی حفاظت اور اس کی عزت و توقیر میں اضافہ کی خاطر باہمی اختلافات بھلا کر مل جل کر کام کریں۔



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…