جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کو اقتدار ملتے ہی ملک میں زراعت کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 23  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شعبہ زراعت کی تباہی پر پی ٹی آئی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زیادہ شرم کا اور کیا مقام ہے کہ زرعی ملک پاکستان اپنی ضروریات کے لیے کپاس، چینی اور گندم بیرون ملک سے درآمد کر رہا ہے،گندم، چینی اور کپاس کا بیرون ملک سے بیک وقت درآمد ہونا پاکستان کی تاریخ میں انوکھا

اور افسوس ناک ترین واقعہ ہے،عمران خان کو اقتدار ملتے ہی ملک میں زراعت کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے زراعت دشمن پالیسیاں تبدیل نہیں کیں تو حکومت کے خلاف احتجاج میں کسان ہمارا ہراول دستہ ہوں گے،پاکستان میں کاٹن کی پیداوار گذشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد تک گر کر 30 سال کی کم ترین سطح پر آچکی ہے، کاٹن بحران کی وجہ سے پاکستان میں ٹیکسٹائل کی صنعت بھی تباہی کے خطرے سے دوچار ہے،عمران خان نے 65 ارب روپوں کے بجٹ کے ساتھ زرعی ایمرجنسی نافذ کی تھی جس پر کہیں عملدرآمد نظر نہیں آیا،گزشتہ برسات کے دوران کپاس، مرچ، ٹماٹر، پیاز، چاول، گنے سمیت دیگر فصلیں متاثر ہوئیں مگر حکومت نے کسانوں کی کوئی دادرسی نہیں کی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کاشت کار زرعی قرضے تک ادا نہیں کرپارہے، کھاد کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں اور عمران خان سب اچھا ہے کے گن گارہے ہیں،پی ٹی آئی حکومت کی غلط زرعی پالیسیوں کی بدولت کسان مفت ٹماٹر بانٹتا رہا مگر کوئی دادرسی نہ ہوئی،جب پی پی پی نے وفاقی حکومت سنبھالی تو بیرون ملک سے گندم خریدی جارہی تھی جبکہ ایک سال بعد پاکستان گندم برآمد کرنے والا ملک بن گیاپی ٹی آئی حکومت نے کسانوں کو دوہزار روپے فی من گندم دینے کے بجائے 2750 روپے فی من ناقص گندم بیرون ملک سے منگوائی،تاریخ میں لکھا جائے گا کہ جب دہلی میں مودی کے خلاف کسان احتجاج کررہے تھے تو دوسری جانب لاہور میں پاکستان کے مودی عمران خان کے خلاف کسانوں نے احتجاج کیالاہور میں پی ٹی آئی کی سیاسی پولیس کے کسانوں پر تشدد سے ایک کاشتکار کی شہادت کو کبھی نہیں بھولیں گے،اگر صنعتوں کے لئے بجلی سستی ہوسکتی ہے تو زراعت کے شعبے کے لئے کیوں نہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ زراعت کے شعبے کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں ورنہ ملک میں ایک نیا بحران پیدا ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…