جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی صارفین پر ایک ہزار ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری

datetime 23  اپریل‬‮  2021 |

کراچی ( آن لائن)ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بجلی کے صارفین پر ایک ہزار ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور عوام

کی کمر ٹوٹ جائے گی۔کرونا وائرس کی وجہ سے عوام پہلے ہی شدید دبائو کا شکارہیں اور ان پر مذید بوجھ لادنا انکی مالی مشکلات بڑھانے کے مترادف ہے ۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا نے بجلی کی قیمت بڑھانے کے لئے عوامی سماعت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس دوران فیصل آباد، لاہور اور اسلام آباد کی الیکٹرک سپلائی کمپنیوں نے 676.9 ارب روپے کی ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کر دیا ہے جبکہ سات دیگر ڈسکوز کی جانب سے نرخ بڑھانے کی درخواستوں پر سماعت جلد مکمل کر لی جائے گی جس کے بعد بجلی کا ٹیرف بڑھایا جائے گا جس سے سرکاری اور نجی شعبہ میں جاری منصوبوں کی لاگت میں زبردست اضافہ ہو جائے گا، صنعتی و زرعی پیداوار اور برآمدات متاثر ہونگی جبکہ عوام کا معیار زندگی مذید گر جائے گا۔میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے بعد حکومت بجلی کی قیمت میں اضافہ کے اعلامیہ کو نہ تو روک سکتی ہے اور نہ ہی اس میںتاخیر کر سکتی ہے تاہم حکومت اس شعبہ میں سرمایہ کاری اور اصلاحات کے زریعے لائن لاسز اور بجلی چوری کو کم کر کے چار سو ارب روپے سالانہ بچا سکتی ہے۔حکومت فوری طور پر پرانے بجلی گھروں کو بند کرنے،تمام آئی پی پی کو بجلی کی قیمت کم کرنے، ریکوری اوربجلی کی تقسیم کا نظام بہتر

بنانے، چوری کے خاتمے اور چینی سرمایہ کاروں کو قرضے کی واپسی میں رعایت دینے پر راغب کر سکتی ہے جس سے بجلی کے نرخ میں بار بار اضافہ کی ضرورت نہیں پڑے گی جبکہ ان معاملات کو نظر انداز کرنے سے اگلے دو سال میں گردشی قرضہ 4.6 کھرب روپے تک بڑھ جائے گا جس کے نتیجہ میں بجلی کی قیمت کوناقابل یقین حد تک بڑھانا ضروری ہو جائے گاجو ملکی معیشت کو ڈبو دے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…