جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کی اہلیہ بھی قبضہ مافیا کے ہاتھوں نہ بچ سکیں، انصاف دینے والوں کی اولادیں انصاف کیلئے اپیلیں کرنے لگیں

datetime 22  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) سابق چیف جسٹس وگورنر سعید الزمان صدیقی کی اہلیہ بھی قبضہ مافیا کے ہاتھوں ستائے جانے کا انکشاف ہوا ہے ،مقدمہ درج ہونے کے باوجود بھی انصاف کے لیے ترستی رہیں،مرحومہ کے وفات پانے کے بعد مرحوم جسٹس کا بیٹا نشانہ پر آ گیا ،اسلام آباد سے کراچی تک بااثر قبضہ مافیا پیچھا کرتے پہنچ گیا،ملکی تاریخ میں

انصاف دینے والوں کی اولادیں انصاف کی اپیلیں کرنے لگے ہیں،معلومات کے مطابق افنان سید الزمان نے تھانہ کراچی ڈیفنس میں درخواست دی کہ اسلام آباد میں تین ایکڑ پانچ کنال کے پلاٹ پر قبضہ کرنے کے لیے عرفان اللہ کنڈی نے مجھ اور میری والدہ پر فائرنگ کی تھی اور جس کا مقدمہ بنی گالا تھانہ میں درج ہے ،تاہم پلاٹ کو چھوڑ کر جب ہم کراچی پہنچے تو مذکورہ قبضہ مافیا کا ڈان عرفان اللہ کنڈی نے میری والدہ مرحومہ کو فون کالز کر کے زندگی ختم کرنے کی دھمکیاں دیکر جائیدادیں مانگ رہے تھے ،تاہم میری والدہ نہ مانیں ،اب جبکہ میری والدہ کا انتقال ہوا تو مذکورہ شخص نے مجھ سے دو بار رابطہ کیا کہ میرے ساتھ ڈیل کر لیں بصورت دیگر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھو گے ،افنان نے درخواست میںموقف اپنایا کہ گزشتہ روز میرے گھر کے باہر فائرنگ کی گئی جس میں عرفان کنڈی کے بھانجے اور بھتیجے شامل ہیں کیونکہ وہ میری گلی میں رہتے ہیں اور انکی فائرنگ سے میرا سیکورٹی گارڈ بھی زخمی ہو گیا ہے ،سابق چیف جسٹس کے بیٹے نے اپیل کی ہے کہ میرے مرحوم بابا کی خدمات کو سامنے رکھ مجھے انصاف فراہم کیا جائے مذکورہ بااثر قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے۔  سابق چیف جسٹس وگورنر سعید الزمان صدیقی کی اہلیہ بھی قبضہ مافیا کے ہاتھوں ستائے جانے کا انکشاف ہوا ہے ،مقدمہ درج ہونے کے باوجود بھی انصاف کے لیے ترستی رہیں،مرحومہ کے وفات پانے کے بعد مرحوم جسٹس کا بیٹا نشانہ پر آ گیا

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…