جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کی اہلیہ بھی قبضہ مافیا کے ہاتھوں نہ بچ سکیں، انصاف دینے والوں کی اولادیں انصاف کیلئے اپیلیں کرنے لگیں

datetime 22  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) سابق چیف جسٹس وگورنر سعید الزمان صدیقی کی اہلیہ بھی قبضہ مافیا کے ہاتھوں ستائے جانے کا انکشاف ہوا ہے ،مقدمہ درج ہونے کے باوجود بھی انصاف کے لیے ترستی رہیں،مرحومہ کے وفات پانے کے بعد مرحوم جسٹس کا بیٹا نشانہ پر آ گیا ،اسلام آباد سے کراچی تک بااثر قبضہ مافیا پیچھا کرتے پہنچ گیا،ملکی تاریخ میں

انصاف دینے والوں کی اولادیں انصاف کی اپیلیں کرنے لگے ہیں،معلومات کے مطابق افنان سید الزمان نے تھانہ کراچی ڈیفنس میں درخواست دی کہ اسلام آباد میں تین ایکڑ پانچ کنال کے پلاٹ پر قبضہ کرنے کے لیے عرفان اللہ کنڈی نے مجھ اور میری والدہ پر فائرنگ کی تھی اور جس کا مقدمہ بنی گالا تھانہ میں درج ہے ،تاہم پلاٹ کو چھوڑ کر جب ہم کراچی پہنچے تو مذکورہ قبضہ مافیا کا ڈان عرفان اللہ کنڈی نے میری والدہ مرحومہ کو فون کالز کر کے زندگی ختم کرنے کی دھمکیاں دیکر جائیدادیں مانگ رہے تھے ،تاہم میری والدہ نہ مانیں ،اب جبکہ میری والدہ کا انتقال ہوا تو مذکورہ شخص نے مجھ سے دو بار رابطہ کیا کہ میرے ساتھ ڈیل کر لیں بصورت دیگر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھو گے ،افنان نے درخواست میںموقف اپنایا کہ گزشتہ روز میرے گھر کے باہر فائرنگ کی گئی جس میں عرفان کنڈی کے بھانجے اور بھتیجے شامل ہیں کیونکہ وہ میری گلی میں رہتے ہیں اور انکی فائرنگ سے میرا سیکورٹی گارڈ بھی زخمی ہو گیا ہے ،سابق چیف جسٹس کے بیٹے نے اپیل کی ہے کہ میرے مرحوم بابا کی خدمات کو سامنے رکھ مجھے انصاف فراہم کیا جائے مذکورہ بااثر قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے۔  سابق چیف جسٹس وگورنر سعید الزمان صدیقی کی اہلیہ بھی قبضہ مافیا کے ہاتھوں ستائے جانے کا انکشاف ہوا ہے ،مقدمہ درج ہونے کے باوجود بھی انصاف کے لیے ترستی رہیں،مرحومہ کے وفات پانے کے بعد مرحوم جسٹس کا بیٹا نشانہ پر آ گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…