اسلام آباد (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف) نے کہا ہے کہ ایک فرانس کیا جو ملک بھی حضور اکرم صلی اللہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے ،ایسے ہر ملک سے تعلقات بطور احتجاج ختم کرنے چاہئیں۔ اپنے بیان میں مرکزی ترجمان اسلم غوری نے کہاکہ فرانسیسی سفیر کو نکالنے کا مطالبہ مسئلہ کے حل کے لئے نہیں بلکہ فرانس
کی جانب سے مسلمانوں کی دل آزاری کرنے پر بطور احتجاج ہے۔اسلم غوری نے کہاکہ اظہار آزادی کے نام اگر مغرب ایسا کرتا ہے تو برطانیہ میں ملکہ برطانیہ کے خلاف بولنا کیوں جرم ہے ؟ پھر ملکہ کے خلاف بولنا بھی آزادی اظہار رائے ہونا چاہیے۔ محمد اسلم غوری نے کہاکہ نیازی سرکار کی آج کی تقریر بھی بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا نتیجہ تھی۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان نے کہا نوکریاں مل رہی ہیں معیشت بہتر ہورہی ہے اور فیکٹریاں لگ رہی ہیں جبکہ خود خان لنگر تقسیم کرنے پر لگا ہوا ہے ترقی یافتہ قوم کا وزیر اعظم لنگر تقسیم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی روپیہ بارے مضبوطی کا دعویٰ کرنے والے خان کا سارا خرچ اس کے اے ٹی ایمز برداشت کرتے ہیں ،اسے روپیہ کی مضبوطی اور کمزروری سے کیا سروکار ؟ ۔ انہوں نے کہاکہ کالعدم جماعت اور پی ٹی آئی کا اگر مقصد ایک ہے تو پھر کیا نہتی عوام پر گولیاں برسا کر بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کی جارہی ہے،خان صاحب کی آج کی تقریر بھی ہمیشہ کی طرح چوں چوں کا مربہ تھی۔انہوںنے کہاکہ قوم ہر نقصان اٹھانے کو تیار ہے لیکن حضور اکرمؐ کی شان میں گستاخی برداشت کرنے کو تیار نہیں،126 دن دھرنا دینے والا اب دھرنے سے اتنا خوفزدہ کیوں ہے ؟۔ انہوںنے کہاکہ یو ٹرن لینے کے عادی نیازی کا تحریک سے کئے گئے تحریر ی معاہدہ پر یو ٹرن کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے،جن وزراء نے تحریری معاہدہ کیا انکو فوری طورپر برطرف کیا جائے۔