جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

جو ملک میں ہورہا ہے ویسا عالمی جنگوں میں بھی نہیں ہوا لاپتہ شہریوں کی بازیابی سے متعلق کیس میں ہائیکورٹ کے ریمارکس

datetime 13  اپریل‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائیکورٹ میں لاپتا شہریوں کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس کے کے آغا نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہاہے کہ جو کچھ ملک میں ہورہا ہے ویسا لاطینی امریکا اور عالمی

جنگوں میں بھی نہیں ہوا۔عدالت نے 2015 سے لاپتا شہری کی عدم بازیابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سیکریٹری ہیومن رائٹس کمیشن کو طلب کرلیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملک میں شہریوں کی گمشدگی ایک سنگین مسئلہ ہے، شہریوں کی گمشدگی کے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ یہ معاملہ قانونی نہیں بلکہ انسانی حقوق کا ہے، شہریوں کی گمشدگی 1973 کے آئین اوراسلامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے، ہیومن رائٹس کمیشن نے لاپتا افرادکی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے؟عدالت نے سوال کیا کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی وزارت نے کونسے کام کیے؟ بعد ازاں عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کو پیش ہوکر وضاحت کرنے کی ہدایت دی۔عدالت نے کیس کی سماعت 27 اپریل تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…