منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

کیاجہانگیر ترین واقعی حکومت کیلئے مشکل ترین ثابت ہونگے؟ عشائیے میں شریک ارکان اسمبلی کی تعداد نے” پنڈوراباکس” کھول دیا

datetime 12  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین اس وقت خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں ، روزنامہ جنگ میں فاروق اقدس کی شائع خبر کے مطابق 2018کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی میںاہم کردار ادا کرنے والے جنوبی پنجاب کے اہم سیاسی اور ا نتہا ئی با اثر خانوادوں سے تعلق ر کھنے والی شخصیت جہانگیر ترین خان جو پی ٹی آئی کے

چیئرمین عمران خان کے ذاتی دوست بھی تھے ان دنوں متضاد خبروں اور قیاس میں گھیرے ہوئے ہیں اورجمعہ کوانہوں نے اپنے گھر میں جس عشائیے کا اہتمام کیا تھا۔اس میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کی تعداد جو مجموعی طو ر پر بشمول دو صوبائی وزرا کے 30 کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے اس نے ان کے آئندہ کے کردار کے حوالے سے خبروں کا ایک پنڈورہ باکس کھول دیا ہے ۔کیونکہ بہر حال یہ تعداداتنی ضرور ہے کہ اگر جہانگیر ترین جن سے یہ ارکان بار بار اپنی وابستگی اور وفاداری کی یقین دہانی کرا رہے ہیں کوئی فیصلہ کر لیتے ہیں تو قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں صورتحال یکسر طور تبدیل ہو سکتی ہے اور ماہرین ایسی صورتحال میں جب جہانگیر ترین اعلانیہ یہ پیغام دے چکے ہیں کہ میں دوست تھا مجھے دشمنی کی طرف کیوں دکھیل رہے ہو؟یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے دوست کیلئے تھا کا صیغہ استعمال کیا ہے اور تنبیہ کی ہے کہ وہ دشمن بھی بن سکتے ہیں تاہم جمعہ کی شب عشائیے میں اپنے رفقا کی

بھر پور حاضری کے ساتھ جو انہوں نے پاور شو کیا تھا۔یقینا انہیں مطلوبہ اعتماد حاصل ہو گیا ہے اوران کے رفقا نے اپنا بیانیہ بھی قدرے تبدیل کر لیا ہے اور وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہمارا وزیر اعظم عمران خان سے کوئی جھگڑا نہیں ہے،انہیں بعض عناصر نے گمراہ کیا ہے اور ہم ان سے ملاقات میں تمام حقائق واضح کرنے کے خواہشمند ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…