جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

مفتی تقی عثمانی نے پردے سے متعلق وزیر اعظم کے بیان کی حمایت کردی‎

datetime 9  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)معروف عالم دین مفتی محمد تقی عثمانی نے وزیراعظم عمران خان کے پردے سے متعلق بیان کی حمایت کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی و یب سائٹ ٹویٹر پر انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فحاشی اور بے پردگی سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے جو کہا ہے کہ وہ بلکل سچ ہے اور ایسی ملک میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی وزیراعظم نے

منہ سے ایسی با کہی ہو ۔ عالم دین محمد تقی عثمانی نے کہا ہے کہ ہم وزیراعظم عمران خان کے پردے سے متعلق بیان پر ان کی حمایت کرتے ہیں۔ دوسری جانب ملک کی مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اس موقف کی مکمل تائید و حمایت کی ہے کہ بچے اور بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں میں فحاشی و عریانی کا اہم کردار ہے، مذہبی و سیاسی قائدین نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے جن مسائل کی طرف نشاندہی کی ہے وہ بڑے واضح ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جس انداز سے ذرائع ابلاغ میں چیزیں دکھائی جاتی ہیں اورفحاشی وعریانی کو فروغ دینے والے جو اعمال ہیں وہ بھی بچوں اور بچیوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کا سبب ہیں۔ یہ بات چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ، مولانا اسعد زکریا قاسمی ، مولانا محمد شفیع قاسمی ، مولانا نعمان حاشر ، مولانا طاہر عقیل اعوان ، مولانا عزیز اکبر قاسمی ، مولانا شکیل الرحمن قاسمی ، مولانا محمد اسلم صدیقی ، جمعیت علماء اسلام مولانا حامد الحق حقانی ، مولانا سید محمد یوسف شاہ ، متحدہ جمعیت اہلحدیث سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ، شیعہ علماء کونسل علامہ عارف واحدی ، قومی یکجہتی کونسل مولانا قاسم قاسمی ، وفاق المساجد و المدارس پاکستان مولانا ایوب صفدر اور دیگر نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ جمعہ کو ملک بھر میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی اس موقف جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں مکمل تائید کی جائے گی۔ رہنمائوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کسی بھی موقع پر عورت کو فحاشی و عریانی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا، فحاشی و عریانی پھیلانے والی عورت ہو یا مرد وہ قابل مذمت ہے اور قرآن کریم نے جہاں عورتوں کو حجاب کا حکم دیا ہے وہاں مردوں کو بھی نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے لہذا وزیر اعظم کے بیان کے ایک حصے کو تنقید کا نشانہ بنانا قابل مذمت اور قابل افسوس ہے ، ایک محدود طبقہ پاکستان کے اندر پاکستان کی نظریاتی اساس ، پاکستان کی روایات اور شریعت اسلامیہ کے احکام کی خلاف ورزی چاہتا ہے جو کسی بھی طو رپر قابل قبول نہیں ہے اور پاکستان کی قوم وزیر اعظم پاکستان محترم عمران خان کے موقف کی مکمل تائید و حمایت کرتی ہے اور جمعۃ المبارک کے اجتماعات کے خطبہ میں ملک بھر میں وزیر اعظم پاکستان کے موقف کی تحسین کی جائے گی اور عوام الناس سے اپیل کی جائے گی کہ وہ ایسے اعمال اور افعال سے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو دور رکھیں جن سے فحاشی و عریانی فروغ پاتی ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…