جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا، بڑی سیاسی جماعت نے اتحاد چھوڑنے کا اعلان کر دیا

datetime 6  اپریل‬‮  2021 |

پشاور(این این آئی) عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ پی ڈی ایم میں ذاتی ایجنڈا لے کر چلنے والوں سے اتحاد نہیں ہوسکتا،کیا پنجاب میں پی ٹی آئی کاساتھ دینے کی وضاحت نہیں بنتی، کیا لاڑکانہ میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی کا اتحاد پروضاحت نہیں ہونی چاہیے، اے این پی کوشوکاز نوٹس دینے کا

اختیار صرف اسفندیارولی خان کوہے، شوکاز سے ہماری جماعت کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی،مولانا صاحب سے توقع تھی پی ڈی ایم کے سربراہ کی حیثیت سے قدم اٹھائیں گے۔پشاور میں اے این پی کی مرکزی کونسل کا اجلاس مرکزی سینئر نائب صدرامیرحیدرہوتی کی زیرصدارت باچاخان مرکز میں ہوا جس میں میاں افتخار ، ایمل ولی ، شاہی سید ، بلوچستان کے صدر اصغر اچکزئی ، سینیٹر حاجی ہدایت نے شرکت کی۔پی ڈی ایم کی جانب سے اے این پی کو شوکاز نوٹس کے معاملے پر غور کیا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت نے مشاورت کے بعد شوکاز کے معاملے پر پی ڈی ایم سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی ایم سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا۔امیر حیدر ہوتی نے پریس کانفرنس میں پی ڈی ایم سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ معاملے پر پی پی اور ن لیگ کے دو امیدوار آگئے، پی پی نے اعتراضات اٹھائے تاہم پی ڈی ایم نے اعتراضات دور نہیں کئے، ہم نے پی پی پی کے امیدوار کو ووٹ دیا، بجائے اختلافات دور کرنے کے ہمیں شوکاز دیا گیا، پی ڈی ایم کب سے سیاسی جماعت بن گئی؟ اے این پی کوشوکاز نوٹس دینے کا اختیار صرف اسفندیارولی خان کوہے، شوکاز سے اے این پی کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ وضاحت چاہیے تھی تو پوچھ لیتے ہم وضاحت دے دیتے، کیا پنجاب میں پی ٹی آئی کاساتھ دینے کی وضاحت نہیں بنتی، کیا لاڑکانہ میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی کا اتحاد ہوا اس پروضاحت نہیں ہونی چاہیے، پی ڈی ایم میں دو جماعتوں نے مل کر اے این پی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی، پی ڈی ایم کا طریقہ غلط تھا دو تین جماعتوں کا ذاتی ایجنڈا برداشت نہیں کر سکتے، پی ڈی ایم کو دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایسے میں ہم پی ڈی ایم کا ساتھ نہیں دے سکتے۔امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ مولانا صاحب سے توقع تھی کہ پی ڈی ایم کے سربراہ کی حیثیت سے قدم اٹھائیں گے، ہمیں پتا ہے شوکازنوٹس کیوں دیا گیا ہے، ہماری توقع یہ نہیں تھی کہ وہ ن لیگ اور جے یو آئی کی حیثیت سے قدم اٹھائیں گے، ان کوجو وضاحت چاہیے تھے وہ ہم دے چکے تھے اس کے باوجود شوکاز کا مقصد واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو ن لیگ کے امیدوار پر تحفظات تھے، ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ مشاورت سے تحفظات دور کیے جاتے لیکن نہیں کیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…