جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

خدا کا خوف کرو ، اتنا ظلم نہ کرو کابینہ میں بیٹھ کر بے بس ہوں، صرف بزنس مین کی بات سنی جاتی ہے وفاقی وزیرغلام سرور خان اپنی ہی حکومت پر برس پڑے

datetime 5  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت زرعی مصنوعات پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا ، جس میں وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا کہ میں کابینہ میں بیٹھ کر بے بس ہوں ، ہم کہاں کہاں سے گندم امپورٹ کر رہے ہیں لیکن اپنے زمیندار کو حکومت کچھ دینے کو تیار نہیں ،ا ڑھائی تین سال میں زرعی سیکٹر

کیلئے ہم کچھ نہیں کر سکے، زرعی سیکٹر کو ہم ریلیف نہیں دے سکے ، حکومت نے انڈسٹری، سروسز سب کو ریلیف دیا مگر زراعت کو نہ دیا ، 52 بلین کے پیکیج کا اعلان ہوا تھا کم از کم اس کو یقینی بنایا جائے اور وہ ریلیز ہو ، غیر زرعی طبقے کی آواز میں زیادہ اثر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں کابینہ میں ہوں مگر دکھ ہوتا ہے وہاں بھی ہماری بات سنی نہیں جاتی، کابینہ میں بزنس مین کی بات سنی جاتی ہے ، کابینہ میں بھی میں نے پوچھا تھا کہ گندم کہاں کہاں سے امپورٹ کر رہے ہیں ، امپورٹڈ گندم 2400 روپے من پڑ رہی ہے اپنے زمیندار کو 1800 دے رہے ہیں، اتنا ظلم اپنے زمیندار کے ساتھ نہ کیا جائے، سندھ نے جو ریٹ 2 ہزار رکھا وہ حقیقت پر مبنی ہے۔ اجلاس کے دوران رکن کمیٹی محمد فاروق اعظم ملک نے شکوہ کیا کہ محکمہ زراعت کے افسران کو کہیں کام کریں نہ کریں کم سے کم ہمارا فون اٹھا لیا کریں ، محکمہ زراعت کے دفتر جائیں تو ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے اسمبلی کل ختم ہونے والی ہے۔دوسری جانب اسپیکر

پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے بھی حکومت پنجاب کے کسانوں کے بارے میں اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں سے برا سلوک کب ختم ہو گا، حکومت کسانوں سے گندم نہیں خرید رہی تو پھر ضلع وار پابندی کس بات کی۔اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے

مسلم لیگ کسان ونگ کے وفد اور دوسری کسان تنظیموں کے نمائندوں نے لاہور میں ملاقات کی، کسانوں نے مسائل سے سپیکر کو آگاہ کیا۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کسانوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پچھلے سال بھی یوکرائن کے کسانوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔ ہمارے کسان رل گئے تھے۔ پنجاب کے

کسانوں کا پتہ نہیں کیا حال ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے والے کسانوں سے برا سلوک کب ختم ہو گا۔ کسانوں کو باردانہ نہیں دیا جا رہا تو پھر ضلع وار بار دانے پر پابندی کا کیا مقصد ہے، حکومت کسانوں سے گندم کی خریداری نہیں کر رہی تو پھر پابندی کس بات کی۔ بہاولپور، ملتان، جنوبی پنجاب سمیت تمام اضلاع میں کاشت کار پر یشان ہیں۔ سندھ حکومت اپنے کسانوں سے گندم 2 ہزار روپے میں خرید رہی ہے اورپنجاب کا کسان پریشان ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…