جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

انٹری فیس پر پابندی، مالم جبہ ریزورٹ بند کر دیا گیا

datetime 3  اپریل‬‮  2021 |

پشاور (آن لائن) سیاحتی مقام مالم جبہ میں 8 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ملک کے بلند ترین ریزورٹ کو انتظامیہ نے پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے انٹری فیس وصول نہ کرنے کی وجہ سے بند کردیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سوات میں امن وامان کی خرابی کے بعد 2008 میں طالبان نے وہاں پر موجود چئیر لفٹس اور دیگر سامان کو جلا دیا تھا

اور72کمروں پر مشتمل سرکاری ہوٹل کو بموں سے اڑا دیا تھا۔سوات میں 2009 میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے تو پختونخوا حکومت نے 2011 میں مالم جبہ سکی ریزورٹ کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا اور 2014 میں اس ریزورٹ کو عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔بعد ازاں ریزورٹ کو خیبر پختونخوا حکومت نے نجی کمپنی کو 33 سال کی لیز پر دے دیا اور اس کمپنی نے وہاں پر سرمایہ کاری کی۔کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیمسن گروپ نے اس ریزورٹ میں تین سو کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے جہاں پر اب تک مختلف بین الاقوامی اور قومی سکی مقابلے منعقد کیے گئے ہیں۔ اسی ریزورٹ کے قریب سیمسن کمپنی نے 2019 ایک فائیو سٹار ہوٹل بھی کھول دیا ہے۔پشاور ہائیکورٹ سرکٹ بینچ مینگورہ نے مالم جبہ ریزورٹ کو انٹری فیس لینے سے نع کر دیا جس کے بعد منتظمین نے ریزورٹ کو عدالتی حکم کے بعد عام سیاحوں کے لیے بند کر دیا ہے۔منتظمین کا کہنا ہے کہ انٹری فیس کے بغیر انتظامی اْمور چلانے کے قابل نہیں جبکہ ریزورٹ کی بندش کی وجہ سے سیاح مایوس ہو کر سیر کیے بغیر لوٹنے لگے۔مالم جبہ ریزورٹ کی بندش کا معاملہ سامنے آنے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی اور چیئرمین پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن زلفی بخاری نے ٹویٹر پر ایک بیان میں اس پر افسوس کا اظہار کیا۔ان کا کہنا ہے کہ رمضان سے چند روز قبل اس ریزورٹ کے بند ہونے سے بہت سے لوگوں کا پلان متاثر ہوا اور انہیں مایوسی ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…