جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

’’وزیراعظم عمران خان کا بھارت سے تجارت کی سمری منظور اور مسترد کرنا 2 الگ الگ باتیں ہیں‘‘

datetime 2  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامی معید یوسف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا بھارت سے تجارت کی سمری منظور کرنا اور پھر کابینہ اجلاس میں مسترد کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔نجی ٹی وی جیو کے مطابق انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا بطور وزیر تجارت درآمدات کی منظوری دینا

اور بطور وزیراعظم کابینہ اجلاس میں سمری مسترد کرنا دو الگ الگ باتیں ہیں، جب وزیراعظم نے بھارت سے درآمدات کی منظوری دی تو اس وقت وہ وزیر تجارت تھے مگر جب انہوں نے بطور وزیراعظم کابینہ کی صدارت کی تو اس وقت وہ الگ عہدے پر تھے۔دریں اثنا وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ ای سی سی کا کام اقتصادی مفادات دیکھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے، بھارت میں غذائی اشیاء کی قیمتیں کم ہونے پر تجویز کابینہ کو بھجوائی، وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں ای سی سی کی بھارت سے تجارت کی تجویز کو مسترد کیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ای سی سی کا کام اقتصادی مفادات دیکھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای سی سی کے سامنے تجویز آئی تھی کہ بھارت سے کاٹن اور شوگر درآمدکی جائے ، ای سی سی سیاسی منظر نامہ کے تحت فیصلے نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ای سی سی نے بھارت میں غذائی اشیاء کی قیمتیں کم ہونے پر تجویز کابینہ کو بھجوائی، ای سی سی کی ہر تجویز کابینہ کو بجھوائی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ ای سی سی نے بھارت سے تجارت کی تجویز پر فیصلہ پراسس کے تحت کیا۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں ای سی سی کی بھارت سے تجارت کی تجویز کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ای سی سی فیصلہ کر کے کابینہ میں توثیق کیلئے بھیجتی ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…