ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

مریم نواز کو قتل کرنے کی براہ راست دھمکی نہیں دی گئی، قتل کی دھمکی ایک معتبر صحافی کے ذریعے دی گئی، حیران کن انکشاف

datetime 31  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ +آن لائن) مریم نواز کو قتل کرنے کی دھمکی ایک معتبر صحافی کے ذریعے پہنچائی گئی، اس بات کا انکشاف سابق وزیراعظم و لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کیا، معروف صحافی منصور علی خان نے لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی سے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف نے گیارہ مارچ کی تقریر میں چند نام

بھی لئے، مطلب ہماری اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھنے والے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک جملہ کہا کہ مریم نواز کو ایک دھمکی دی گئی ہے کہ اگر وہ باز نہ آئیں تو انہیں سمیش کر دیا جائے گا، یہ دھمکی کس طرح آئی تھی، جس کا جواب دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بالکل یہ دھمکی آئی تھی، یہ ایک جرنلسٹ کے ذریعے آئی تھی، مجھے اس سے زیادہ نہیں پتہ، مجھے یہی پتہ ہے کہ ایک جرنلسٹ جن پر اعتماد کیا جا سکتا تھا انہوں نے یہ بات کی ہے کہ یہ بات کہی گئی ہے کہ اگر وہ باز نہ آئیں تو سمیش کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل شاہد خاقان عباسی نے مولانا عبدالغفور حیدری سے ملاقات کی اور انکی خیریت دریافت کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں سینٹ میں قائد حزب اختلاف منتخب ہونے کے بعد کی صورت حال پر مشاورت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی کو نہ ماننے پر اتفاق کیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں پیپلزپارٹی کے رویہ سے مایوس ہیں۔ قائد حزب اختلاف سے متعلق پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں سے بھی جلد مشاورت کریں گے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا قائد حزب اختلاف کے معاملے میں پیپلزپارٹی نے باپ سے حمایت مانگ کر سب کو مایوس کیا ہے، دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا سربراہی اجلاس بلاکر ائندہ کی حکمت عملی طے کرنی چاہیئے، دونوں رہنماوں کا مزید کہنا تھا پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو اپنا قائد حزب اختلاف لانے کیلئے حکمت عملی طے کرنی ہوگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…