جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلزپارٹی کو مبارک ہو ا ن کا اپوزیشن لیڈر بن گیا ، سابق وزیراعظم کا بڑا اعلان

datetime 29  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن) ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 57 سینیٹرز لکھ کر دے چکے ہیں کہ وہ اپوزیشن میں ہیں۔اگر اپوزیشن کے پاس 57 ارکان ہیں تو پہلی فرصت میں چئیرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے۔  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا  پیپلز پارٹی نے جو کیا وہ پارلیمانی اصولوں کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو مبارک ہو انکا اپوزیشن لیڈر بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا  وہ اپوزیشن نہیں ہوتی جس بینچ پر حکومتی اراکین بیٹھیں ۔انہوں نے کہا کہ آزاد اراکین تو لکھ کر دے چکے تھے وہ باپ کے رکن ہیں۔ انہوں نے کہا جو پارلیمان، جمہوریت اور پی ڈی ایم کے اصولوں کے ساتھ ہے ہم انکے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ میرے گھر پر ہوا تھا۔ اور اس فیصلے بارے تمام جماعتیں جانتی ہیں کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا  ڈپٹی چئیرمین سینیٹ اور اپوزیشن لیڈر پر ذیلی کمیٹی نے دو منٹ میں فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا اپوزیشن لیڈر کے فیصلے کی خبر نہیں پہنچی تو ان ممبران سے پوچھ لیں جو وہاں موجود تھے۔  انہوں نے کہا اسد قیصر بتائیں وہ حکومت کے اسپیکر ہیں یا سب کے اسپیکر ہیں۔ انہوں نے کہا  اسد قیصر بخوبی سمجھتے ہیں کہ وہ اپوزیشن کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا اپوزیشن اب انکی کسی بات کو سننے اور کسی کمیٹی میں جانے کو تیار نہیں ۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم اور وزرائ�  ایوان میں کھڑے ہوکر گالی نکالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کیا اسپیکر نے وزیر اعظم کی وہ تقریر نہیں سنی جو انھوں نے جعلی اعتماد کا ووٹ لیکر کی۔  انہوں نے کہا اصول ہے کہ جو شخص ہاوس میں موجود نہ ہو اسکے بارے میں بات نہیں  کرنی چاہے۔ انہوں نے کہا اسپیکر کو چاہے کہ اپوزیشن سے معافی مانگیں۔  انہوں نے کہا جب ان باتوں پر عمل ہوگا تو ہاوس چلے گا۔ انہوں نے کہا اس ملک کو کونسی انتخابی اصلاحات چاہیں۔ انہوں نے کہا  پہلے توبہ کریں پریذائڈنگ آفیسر نہیں اٹھائیں گے ووٹ چوری نہیں کریں گے۔ توبہ کریں سینیٹ میں کیمرے  نہیں لگائیں گے ۔ یہ توبہ کریں حکومت کے سینیٹرز لیکر اپوزیشن لیڈر نہیں بنائیں گے۔ انہوں نے کہا  ضرورت اس وقت تمام اداروں کو آئین کے مطابق چلنے کی ہے۔ انہوں نے کہا براڈشیٹ سمیت جو رپورٹیں بنی ہیں وہ مجرموں کو چھپانے کے لئے ہی بنی ہیں۔ انہوں نے کہا براڈ شیٹ کے حقائق بہت واضح ہیں، نیب کے چئیرمین نے معاہدے کئے۔سہولت کار بننے والوں اور کمیشن  مانگنے والوں کو اندر کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں فوجی آفسران بھی شامل ہیں، کیس بنائیں اور جیل میں ڈالیں۔  انہوں  نے کہا احتساب کا ادارہ خود قابل احتساب بن گیا ہے۔ انہو ں نے کہا لیڈر آف ہاوس آئے بتائے اسے کیا انتخابی اصلاحات چا ہئیں۔  انہوں نے کہا جس ملک کا وزیر اعظم اپوزیشن کو گالیاں دے وہاں کیا انتخابی اصلاحات ہوں گی۔ انہوں نے کہا حکومت آرڈیننس پر آرڈیننس لے آئی  کیا حکومت پارلیمان پر اعتماد نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…