ہفتہ‬‮ ، 25 جولائی‬‮ 2026 

موبائل سگنل پر ڈکیتی!

datetime 26  مارچ‬‮  2021 |

میں لاہور کے ایک معروف نجی اسکول میں ٹیچرہوں۔وبا کے باعث، میں اپنی کلاسیں آن لائن لے رہا ہوں۔ میرے گھر پر وائی فائی برابر نہیں آتا ہے اور کئی مرتبہ کی ناکام کوششوں کے بعد میں نے اپنا سیلولر ڈیٹا استعمال کرنا شروع کر دیا۔اس سے مجھے بھروسے کے قابل اور تیز کنکشن دے دیا ہے۔ لہٰذا، میری کلاسیں،کسی مسئلے کے

بغیر،شروع ہو گئی ہیں۔گزشتہ مہینے، اچانک میرے فون کے سگنل کمزورپڑنا شروع ہو گئے اور بعض اوقات بالکل ختم ہو جاتے تھے۔ میں بہت پریشان ہو گیا۔ کیوں کہ میرے لیے اپنے اسٹوڈنٹس کو پڑھانا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ میرا کنکشن ٹوٹ جاتا تھا یا پھر بہت سست ہو جاتا تھا جس کی وجہ سے اسٹوڈنٹس کو پڑھانا ناممکن ہو گیا تھا۔میرے بھائی نے اور میں نے سیلولر سروس پروائیڈر سے شکایت تو اُنھوں نے بتایا کہ اُن کے سسٹم میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ نہایت اداسی کے ساتھ، میں نے اپنے پڑوسی سے پوچھا اگر انھیں بھی ایسا ہی مسئلہ ہو رہا تو اُنھوں نے بتایا کہ اُن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا ہے اور انھیں اُس کی وجہ بھی معلوم تھی۔ ہمارے پڑوس میں کسی شخص نے، اپنے سنگلز کوبہتر بنانے کی غرض سے سگنل بوسٹر لگا رکھے تھے۔ یہ بالکل بجلی کا ”کنڈا“ لگانے کی طرح ہے۔ یہاں کچھ خودغرض لوگ، اپنے پڑوسیوں کے خرچ پرانتہائی تیزرفتار انٹرنیٹ سروس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اْنھیں تکلیف میں مبتلا کر رہے ہیں۔حکومت نے پہلے ہی اِن سگنل بوسٹرز کے لگانے کو غیر قانونی اور قابل سزا جرم قرار دے دیا ہے،پھر کیسے یہ لوگ اِس طرح کر رہے ہیں؟ میں نے اپنا کیرئیر بنانے کے لیے سخت محنت کی ہے اور اِن سنگل بوسٹرزکی وجہ سے میری جاب خطرے میں پڑ گئی ہے۔ میں حکام پر زور دیتاہوں کہ وہ اِس سلسلے میں فوری اقدام کریں اور اَن سگنل بوسٹرز کا خاتمہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…