جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان بھارت کا معاہدہ ہورہا ہے، وہ کیا معاہدہ ہے؟ کشمیر کے مسئلے پر ملاقاتیں آخر بند کمرے میں کیوں ہوتی ہیں، حیران کن دعویٰ

datetime 26  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن )کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے مشکور ہیں کہ کورونا میں بھی اعلیٰ سطح کا اجلاس بلا کرمریم نواز کو زیر بحث لائے،نیب کی عدالتوں کے معاملات ہم سرکس نما دیکھتے ہیں، ایسے ہی معاملات رہے تو ملک آگے کیسے بڑھے گا،کشمیر کے بارے میں جو ہورہا اس کے حوالے سے پارلیمنٹ اور عوام آگاہ نہیں،

پوری دنیا باتیں کر رہی ہے پاکستان بھارت کا معاہدہ ہورہا ہے، وہ کیا معاہدہ ہے؟ ۔ جمعہ کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نون لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کی عدالتوں کے معاملات پر ہمیشہ کہا کہ کیمرے لگا کر لوگوں کو دکھائیں۔انہوں نے کہا کہ نیب کی عدالتوں کے معاملات ہم سرکس نما دیکھتے ہیں، ایسے ہی معاملات رہے تو ملک آگے کیسے بڑھے گا۔شاہد خاقان نے بتایا کہ ایک صاحب ملے جو سابقہ سیکرٹری ہیں اور 3سال سے عدالتوں میں پیش ہورہے ہیں۔لیگی رہنما نے کہا کہ کیا کل اور پرسوں کووڈ نہیں تھا جو آج کووڈ ہے، عدالتوں کا احترام ہونا چاہیے، جب عدالتیں سیاسی ادارہ بن جائیں تو لوگ مشتعل ہوتے ہیں، مریم نواز کہتی ہیں کہ نیب احتساب کا ادارہ نہیں سیاسی ادارہ ہے، کیا نیب کے چیئرمین نے کبھی آئین پڑھا ہے؟شاہد خاقان نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ابھی تک کورونا کا ایک ٹیکا تک نہیں خریدا، این سی او سی مذاق کرتی ہے،ایسا کرنا چھوڑ دیں۔انہوںنے کہاکہ کشمیر کے بارے میں جو ہورہا اس کے حوالے سے پارلیمنٹ اور عوام آگاہ نہیں، پوری دنیا باتیں کر رہی کہ پاکستان بھارت کا معاہدہ ہورہا ہے، وہ کیا معاہدہ ہے؟ ہم سننا چاہتے ہیں کہ سیکیورٹی کونسل کی قرارداد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کے مسئلے پر ملاقاتیں آخر بند کمرے میں کیوں ہوتی ہیں،ہم نے بند کمروں میں بہت فیصلے کیے ہیں اور بہت مار کھائی ہے، پاکستان ہر معاملے پر آج پسپائی کا شکار ہے اور کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک ایسا مسئلہ تھا جو متنازع نہیں تھا لیکن آج اسے بنایا جا رہا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ قوم کے احتساب کے ادارے کس کے حکم پر چلتے ہیں سب لوگ جانتے ہیں، دعا گو ہوں کہ عدالتوں میں کیمرے لگیں اور عوام سرکس دیکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…