جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

جسٹس فائز عیسیٰ پر تنقید، سپریم کورٹ میں فواد چوہدری اور صحافی سمیع ابراہیم کیخلاف سرینا عیسیٰ نے بڑا قدم اٹھا لیا

datetime 22  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان میں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری اور مقامی صحافی سمیع ابراہیم کے خلاف توہین عدالت کی الگ الگ درخواستیں دائر کردی گئیں، دونوں درخواستیں سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے دائر کی۔ پہلی درخواست میں موقف اختیا ر کیا گیا ہے کہ وفاقی وزیر

نے اپنے آفیشل  ٹویٹر اکاؤنٹ سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف نامناسب زبان استعمال کی یہ بیان سپریم کورٹ میں جاری کیس میں اثر انداز ہونے کی کوشش کی اور جسٹس فائز عیسیٰ کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا ا ور الزامات لگائے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس وقت سپریم کورٹ کے جج ہیں اور ان پر کسی بھی قسم کا لگایا گیا کو الزامات تاحال ثابت نہیں۔ہوا۔ درخواست میں مزید کہا گیاہے کہ فواد چوہدری نے سپریم کورٹ کے جج کو انڈر ٹرائل جج کہا جو کہ توہین عدالت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری نے کہا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کی ساری کارروائی دیکھی ہے حالانکہ فواد چوہدری ایک دن بھی عدالت میں حاضر نہیں ہوئے ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے احاطہ عدالت میں کیمرے لگا رکھے ہیں۔ سرینا عیسیٰ نے اپنی دوسری درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ مقامی صحافی نے اپنے ایک ٹاک شو میں معزز عدلیہ کیخلاف نامناسب زبان استعمال کی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ وفاقی وزیر فواد چوہدری اور صحافی کے بیانات کا نوٹس لے اور ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ فواد چوہدری کو سرکاری دفتر کے غیر قانونی استعمال پر عہدے سے سبکدوش جبکہ صحافی کو بطور ہرجانہ دس ملین جرمانہ بھی عائد کیاجائے۔ واضح رہے کہ

گزشتہ روز  فوادچودھری نے جسٹس فائزعیسیٰ کے حوالے سے ٹوئٹ کیاتھاجس میں فواد چودھری نے کہا کہ ایک ہفتے سے سپریم کورٹ کے ایک انڈر ٹرائل جج کی تقریریں سن رہے ہیں اگر جواب دیا تو دکھ ہوگاپھر توہین ہوگئی کے بھاشن آجائیں گے۔فواد چوہدری نے جسٹس فائزعیسیٰ کا نام لئے بغیر مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کو بھی اپنے گاڈ فادر سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس افتخار چوہدری کی طرح سیاست کاشوق ہے تو مستعفی ہو کر کونسلر کا الیکشن لڑ لیں مقبولیت اور قبولیت دونوں کا اندازہ ہو جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…