اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

نیا کورونا وائرس ملبوسات میں کتنے دن تک  زندہ رہ سکتا ہے؟دوران تحقیق اہم انکشافات

datetime 28  فروری‬‮  2021 |

لندن (این این آئی)سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کووڈ 19 کا باعث باعث بننے والا کورونا وائرس عام استعمال ہونے والے ملبوسات میں 3 دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ دعوی برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ڈی مونٹ فورنٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں پولیسٹر، پولی کاٹن اور سو فیصد کاٹن پر کورونا وائرس کی موجودگی کی جانچ پڑتال کی گئی۔

نتائج سے عندیہ ملا کہ پولیسٹر میں وائرس کی کئی دن تک موجودگی کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔محققین نے بتایا کہ ملبوسات کی تیاری کے لیے عام استعمال ہونے والے میٹریلز وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔تحقیق کے دوران ملبوسات میں وائرس کے ذرات کی جانچ پڑتال کی گئی تھی اور پھر یہ دیکھا گیا کہ ہر میٹریل پر 72 گھنٹے کے دوران وائرس کس حد تک مستحکم رہتا ہے۔نتائج سے ثابت ہوا کہ پولیسٹر کی سطح یہ وائرس 3 دن کے بعد بھی موجود تھا اور اس کی دیگر اشیا میں منتقلی کی صلاحیت بھی برقرار تھی۔اس کے مقابلے میں سو فیصد کاٹن میں وائرس 24 گھنٹے تک زندہ رہا ہے جبکہ پولی کاٹن میں یہ صرف 6 گھنٹے تک زندہ رہا۔محققین نے بتایا کہ جب کورونا وائرس کی وبا کا آغاز ہوا تو ہمیں اس بارے میں بہت کم معلوم تھا کہ کوورنا وائرس کپڑوں پر کب تک زندہ رہ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ملبوسات کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے 3 سب سے عام میٹریلز سے طبی عملے میں وائرس کی منتقلی کا خطرہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ میٹریلز طبی عملے کی وردیوں کے لیے عام استعمال ہوتے ہیں اور یہ لباس سے دیگر اشیا کی سطح پر بھی منتقل ہوسکتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ خالص کاٹن سے وائرس کو کس طرح نکالا جاسکتا ہے۔پانی عموما وائرس کو واشنگ مشینز سے نکال باہر کرتا ہے مگر ایسا اس وقت نہیں ہوتا جب محققین نے کپڑوں پر مصنوعی لعاب دہن کو لگایا جس پر وائرس موجود تھا۔ایسے حالات میں ڈیٹرجنٹ اور 40 سینٹی گریڈ درجہ حرارت سے وائرس کا مکمل خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔تاہم کپڑے دھونے سے یہ وائرس دیگر ملبوسات میں منتقل نہیں ہوتا۔مگر محققین کا کہنا تھا کہ بہتر یہ ہے کہ طبی عملے کو ملبوسات گھر کی بجائے طبی مرکز پر ہی دھوئے جائیں اور اس حوالے سے پرانی سفارشات زیادہ کارآمد نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…