ہفتہ‬‮ ، 07 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

کرپٹ عناصر نے سکولوں و کالجوں کو بھی نہ بخشا، تعمیرو مرمت فنڈز میں مبینہ بے ضابطگیوں کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 18  فروری‬‮  2021 |

راولپنڈی (آن لائن)محکمہ تعلیم اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی مبینہ ملی بھگت سے راولپنڈی میں طلباو طالبات کے مختلف ہائی سکولوں اور کالجوں میں نئے کمروں کی تعمیر، مرمت اور تزئین و آرائش کے لئے جاری فنڈز میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے یہ بے ضابطگیاں مجوزہ منصوبوں میں ناقص میٹریل کے استعمال اور

سرکاری رقوم میں خورد برد کے ذریعے کی گئیں 11تعلیمی اداروں میں کام کی تکمیل کے بعد متعلقہ ٹھیکیداروں نے منصوبوں کی تکمیل رپورٹ جاری کر دی لیکن متعلقہ اتھارٹیز نے ان منصوبوں کا انتظام لینے سے انکار کر دیا ذرائع کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائی سکول رتہ امرال میں75لاکھ روپے،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میلاد نگر میں ڈیڑھ کروڑ،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول خیابان سرسید سیکٹر1اور2میں ڈیڑھ کروڑ روپے فی کس ،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول صفدر آباد میں50لاکھ،گورنمنٹ کالج برائے خواتین موہن پورہ میں ڈیڑھ کروڑ ،گورنمنٹ بوائزہائی سکول امر پورہ میں50لاکھ،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گلزار قائد میں25لاکھ ،گورنمنٹ بوائزہائی سکول گلزار قائد میں25لاکھ کرسچین بوائز ہائی سکول راجہ بازار میں1کروڑ روپے کی لاگت سے اضافی کمرے بنائے جانے تھے جبکہ 25لاکھ روپے میں پاکستان گرلز ہائی سکول صرافہ بازار کی تزئین و آرائش اور مرمت کی جانی تھی لیکن مقررہ مدت سے زائد وقت لگانے کے بعد تکمیل کے ساتھ ہی تعمیراتی کام کے نقص سامنے آگئے ذرائع کے مطابق مختلف تعلیمی اداروں میں نو تعمیر شدہ بلاکس اور کمروں میں سے بعض کے فرش بیٹھ گئے ، بعض کی چھتیں لیک کرنے لگ گئیں اور اسی طرح سیوریج و نکاسی میں ناقص میٹریل لگانے سے یہ استعمال سے قبل ہی ناکارہ

ہونے لگے زرائع کے مطابق اس حوالے سے بعض تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور والدین کی جانب سے متعلقہ حکام کو بروقت آگاہ کرنے کے باوجود ٹھیکیداروں کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی گئی جبکہ ٹھیکیداروں کی جانب سے تکمیل رپورٹ کرنے کے باوجود اداروں کی انتظامیہ نے نوتعمیر شدہ حصوں کا چارج لینے سے انکار کر دیا

اس ضمن میں رابطہ کرنے پر بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایکسئین ریاض بٹ نے بتایا کہ ہمیں تو ایسی کوئی شکائیت موصول نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ چارج لینے والے اگر ہمیں اپنے اعتراضات سے آگاہ کریں گے تو ہمیں پتہ چلے گا انہوں نے کہا اگرچہ اس منصوبوں سے ہٹ کربعض ٹھیکیداروں کے کام میں شکایات سامنے آئی تھیں لیکن جب

انہیں کام کی درستگی کا کہا گیا تو تو وہ مختلف قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں اور درخواست بازیوں پر اتر آئے اس کے باوجود یہ بات طے ہے کہ خواہ کوئی احتجاج کرے یا ہڑتال کرے سرکاری وسائل کا غلط استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور سرکاری منصوبوں کی ان کی اصل روح کے مطابق تکمیل یقینی بنائی جائے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



قید بھی نعمت ہوتی ہے


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

سٹوڈنٹ لسٹ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

Mind The Gape

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…