بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سینیٹ انتخابات میں پیسے سے خرید و فروخت کرنیوالے پی ٹی آئی کے اپنے  لوگ تھے، آج بڑے عہدوں پر فائز ہیں،شاہد خاقان عباسی پھٹ پڑے

datetime 16  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں پیسے سے خرید و فروخت کرنے والے تحریک انصاف کے اپنے لوگ تھے، آج بڑے عہدوں پر فائز ہیں،جتنی کرپٹ حکومت آج پاکستان میں ہے، تاریخ میں کبھی نہیں آئی،براڈ شیٹ کے اندر 10 ارب روپے ضائع کیے گئے، آج تک ملزم نہیں پکڑا گیا،کمیشنوں کا مقصد ہے حقائق کو چھپایا جائے اور اصل ملزمان کو بچایا جائے،نوازشریف پاکستان کے شہری ہیں، تین بار کے وزیر اعظم ہیں،

کسی کرپٹ حکومت کو ان کا پاسپورٹ کینسل کرنے کا اختیار نہیں۔ احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ڈھائی سال ہو چکے ہیں اور ن لیگ کے حوالے سے کوئی کیس نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ چینی کمیشن میں کوئی رپورٹ نہیں ہے،200 ارب سے زیادہ عوام کی جیب سے نکل چکا ہے،پاکستان کی تاریخ میں عمران خان نے سب سے زیادہ قرضہ لیا۔ انہوںنے کہاکہ ووٹ خریدے گئے سینٹ کے الیکشن میں اور ووٹ خریدنے والا پی ٹی آئی کے ایم پی اے ہیں،جس آدمی کی پارٹی کے لوگ ووٹ خرید رہے ہیں وہ آج وزیراعظم ہے۔ انہوںنے کہاکہ کمیشن اور کمیٹی بنائی گئی اور کمیٹی میں وہ لوگ ہیں جو اس میں خود ملوث تھے،احتساب والوں کو بعد میں احتساب دینا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ براڈ شیٹ میں اس ملک کا دس ارب کا نقصان ہوا۔ انہوںنے کہاکہ موصا قاوی کہتے ہیں کہ میں عمران خان سے ملا ہوں،چیرمین نیب سویا ہوا ہے اس کو نظرر نہیں آیا کہ کیا ہوا،اس عدالت میں جج ارشد ملک کو خرید کر نواز شریف کے خلاف فیصلہ کیا گیا،براڈ شیٹ کے معاملے میں عمران خان انصاف دے،انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت پاکستان کی کرپٹ ترین حکومت ہے،سینٹ الیکشن میں جو چوری ہوئی وہ سب کے سامنے آگیا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ براڈ شیٹ کے اندر 10 ارب روپے ضائع کیے گئے، آج تک ملزم نہیں پکڑا گیا، موسوی کی ملاقاتیں عمران خان، شہزاد اکبر اور ڈیوڈ روز سے ہوئیں۔ انہوںنے کہاکہ چیئرمین نیب کو نظر نہیں آتا کہ ان کا جج ارشد ملک بک گیا؟ یہ انصاف کا نظام ہے؟ اس طرح انصاف کیا جاتا ہے؟ عمران خان حساب دیں نہ، جتنی کرپٹ حکومت آج پاکستان میں ہے، تاریخ میں کبھی نہیں آئی۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ میاں صاحب پاکستان کے شہری ہیں، تین بار کے وزیر اعظم ہیں، کسی کرپٹ حکومت کو ان کا پاسپورٹ کینسل کرنے کا اختیار نہیں۔ انہوںنے کہ اکہ سوال یہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن کیوں خفیہ رکھا گیا ہے؟ سینیٹ انتخابات کو تو کھولا جا رہا ہے؟ شاہد کمیشنوں کا ایک مقصد ہے کہ حقائق کو چھپایا جائے اور اصل ملزمان کو بچایا جائے۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ہم نے ووٹ دیا تھا، اس وقت مخلوط حکومت تھی، بیس سال سے یہ عدالتیں ان کا احتساب کر رہی ہیں، یوسف رضا گیلانی سینیٹر بننے کے اہل ہیں، پی ڈی ایم کے امیدوار ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان کی کوشش ہے کہ ان لوگوں کو ٹکٹ دیئے جائیں جن کا پارٹی سے کوئی واسطہ نہیں، یہ صرف پیسے کی بنیاد پر ٹکٹ دے رہے ہیں تاکہ وہ ممبران کو خرید سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…