بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

واپڈا کے انجینئرز اور ملازمین نے پورے ملک کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دیدی‎

datetime 15  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی دارلحکومت کے ڈی چوک میں واپڈا ملازمین نے پڑائو ڈال دیا ہے ،تمام یونین،پنشنرز ایسوسی ایشن و سول سوسائٹی،لیڈی ہیلتھ ورکرز،یوٹیلٹی سٹورز یونین و ملازمین بھی شریک،ہزاروں ملازمین پولیس حصار میں پہلے پریس کلب اور پھر ڈی چوک پہنچے ،پرامن مظاہرہ اور حکومت سے ادارے کی نجکاری

روکنے،تنخوائوں میںآضافہ،ملازمین کی مشکلات اور مستقلی سمیت دیگر مطالبات پورے کرنے کامطالبہ کیا ۔بجلی ترسیل کرنے والی کمپنیوں کے انجینئرز اور ملازمین کا کہنا ہے کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں پورے ملک کی بجلی بند کر دیں گے۔ مظاہرین کی جانب سے مطالبات کے حق میں تقاریر نے ریڈزون کے پہلے گیٹ کو گرما دیا ہے ،حکومت سے مذاکرات کا آغاز کر دیا گیا،مظاہرین کے مطالبات جلد حل کرنے کی یقین دہانی بھی کروا دی گئی ۔ پیر کو پریس کلب کے باہر واپڈا،لیبر،پنشنرز،لیڈی ہیلتھ ورکرز،یوٹیلٹی سٹورز سمیت سول سوسائٹی کے ہزاروں افراد جمع ہو ئے اور کچھ دیر قیام کے بعد ڈی چوک کی جانب روانہ ہوئے ،راستہ کو پولیس نے اپنے حصار میں لے رکھا تھا اور اس دوران نامساعد حالات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات بھی اٹھائے گئے تھے ،ایمبولینس،فائر برگیڈ،بکتر بند گاڑیاں بھی موجود رہیں،واپڈا یونین کی قیادت خورشید احمد ،یوٹیلٹی سٹور کی عارف شاہ ،لیبر اور پنشنرز کی قیادت محمد اسلم نے سنھبالی اور لیڈی ہیلتھ ورکرز عائشہ خان کی قیادت میں متحد تھیں،اس موقع پر مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پرمہنگائی اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا کے نعرے درج تھے،واپڈا ملازمین نے کہا کہ حکومت کی جانب سے واپڈا کی نجکاری کسی صورت قبول

نہیں, یوٹیلیٹی سٹورز ملازمین نے حکومت دیگر اداروں کی طرح یوٹیلیٹی کارپوریشن ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کرے, کے مطالبا ت رکھے اور لیڈی ہیلتھ ورکرزنے مستقلی اور کوروڈ الاؤنس کی فراہمی کا فی الفور نوٹیفیکشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا،اس موقع پر مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک ڈی چوک پر دھرنا کا

اعلان کیا تو حکومت کی جانب مذاکرات کی پیشکش آگئی جس پر واپڈا،یوٹیلٹی سٹورز،لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت پر ایک کمیٹی بنائی گئی اور حکومت کی جانب سے پرویز خٹک،عمرایوب،سیکرٹری توانائی،سیکرٹری نجکاری کمیشن پر وفد شامل تھا،ذرائع کے مطابق حکومت نے مظاہرین کے تمام مطالبا ت پر غورکرنے کی یقین دہانی کروا

دی ہے اور انہیں کہا کہ بہت جلد عمل درآمد کیا جائے گا۔واپڈا ملازمین کے نجکاری کے خلاف احتجاج میں شریک ایک ملازم دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا ہے،ترلائی کلاں کا رہائشی لائن مین لیاقت مظاہرہ میں شریک ہوا تو اس دوران حبس اور دم گھٹنے سے انکی طبیعت خراب ہونے لگی،فوری طور پر طبی امداد کے لیے ایمبولینس میں ہسپتال لے جایا گیا تو وہ راستہ میں ہی دم توڑ گیا ،جہاں انکی لاش کو ہسپتال میں رکھ دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…