منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

کشمالہ کے بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق چاروں نوجوان دوست اے این ایف کا ٹیسٹ دینے آئے تھے

datetime 2  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں کشمالہ طارق کے پروٹوکول میں شامل گاڑیوں نے سگنل توڑتے ہوئے مہران کار کو ٹکر ماری جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔پولیس کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں تیز

رفتار گاڑیوں نے سگنل توڑتے ہوئے موٹرسائیکل اور مہران کار کو ٹکر ماری جس کے نتیجے میں کار میں موجود چار دوست جاں بحق ہو گئے۔جاں بحق نوجوانوں کے گھر صف ماتم بچھ گیا ہے۔اہلخانہ صدمے کی حالت میں ہیں اور تاحال یقین نہیں کر پا رہے کہ گھر سے خوشی خوشی گئے ان کے جوان بیٹے اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ذرائع کے مطابق جاں بحق نوجوان مانسہرہ سے اے این ایف کا ٹیسٹ دینے اسلام آباد آئے تھے جہاں موت ان کا انتظار کر رہی تھی۔دریں اثنا وفاقی دارالحکومت میں سرینگر ہائی وے پر پیر کی رات گئے پیش آنے والے واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں حادثہ کی بڑی وجہ جاں بحق ہونے والے افراد کی گاڑی تھی تاہم کشمالہ طارق کے شوہر وقاص کی گاڑی کا ڈرائیور فیاض تھانہ رمنا کی حراست میں ہے ،سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جاں بحق افراد کی گاڑی سرینگر ہائی وے پر ایک چوک میں سگنل توڑ کر یوٹرن لینا چارہی تھی کہ تیز

رفتار گاڑی کی زد میں آگئی جس میں کشمالہ طارق کا شوہر وقاص بھی سوار تھے جو زخمی بھی ہوا اور اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ کشمالہ طارق کا بیٹا اذلان پچھلی گاڑی میں تھا اور جب حادثہ ہوا تو وہ جاں بحق افراد کی مدد کیلئے متاثرہ مقام پر پہنچا تو وہاں پر موجود لوگوں کے

ہجوم نے تشدد کا نشانہ اور زدوکوب کیا اور بعد میں پولیس کے درج کئے گئے مقدمے میں اس کا نام بھی ایف آئی آر میں درج کر لیا گیا حالانکہ ڈرائیور فیاض وقاص کی گاڑی چلا رہا تھا اور اذلان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا ،پولیس ذرائع نے بتایا کہ حادثے کی زد میں آنے والی دوسری

سوزوکی گاڑی کا ڈرائیور جاں بحق ہوا اس کے پاس لائسنس ہی نہیں تھا البتہ جس شخص نے پرچہ درج کرایا اس کا موقف ہے کہ وہ گاڑی چلا رہا تھا حالانکہ اصل ڈرائیور اس حادثہ میں جاں بحق ہوگیا تھا ۔پولیس تمام پہلوئوں سے اس معاملے کی تفتیش کررہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…