منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف خاندان کی پاکستان کے کل قرض جتنی رقم دنیا کے مختلف ممالک کے بینکوں میں موجود ہونے کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 23  جنوری‬‮  2021 |

کوئٹہ(آن لائن)ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہاہے کہ بقول براڈشیٹ چیئرمین دنیا کے مختلف ممالک کے بینکوں میں نوازشریف خاندان کی پاکستان پر قرضے جتنے رقم موجود ہے ،گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر اپنے پیغام میں انہوں نے کہاکہ براڈ شیٹ کے چیئرمین کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک

کے بینکوں میں نواز شریف خاندان کی 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم پڑی ہے جبکہ اتنا ہی پاکستان کا قرضہ ہے۔ شریف خاندان کی چھپائی ہوئی دولت میں لندن ایون فیلڈ فلیٹ بھی شامل ہیں جو کہ سال 2001-2000 میں خریدے گئے۔ انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ معاملے نے این آر او کی سیاست کو آشکار کیا، یہ ان کے لیے پاناما 2 ثابت ہوگا۔دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کا کہنا ہے کہ لندن کی عدالت نے نواز شریف اور فیملی کو کلین چٹ دے دی ہے۔اپنے بیان میں حسین نواز نے کہا کہ ثالثی عدالت کے جج سر انتھونی ایونز کا فیصلہ حقائق جاننے کے لیے پڑھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ جج نے فیصلے میں لکھا کہ نواز شریف یا ان کے خاندان کے افراد کے خلاف کوئی چیز سامنے نہیں آسکی۔سابق وزیراعظم کے صاحبزادے نے کہا کہ جج انتھونی ایونز کے یہ ریمارکس شریف خاندان کیلئے کلین چٹ ہیں۔اْنہوںنے کہاکہ اڈ شیٹ نے سراغ رساں ایجنسی میٹرکس کی خدمات نواز شریف کے اثاثوں کی تلاش کے لئے حاصل کی تھیں۔حسین نواز نے کہاکہ ہمارے مخالفین جب بھی کسی غیرجانبدار فورم پر گئے، انھیں منہ کی کھانی پڑی۔انہوں نے کہاکہ براڈ شیٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے بے بنیاد دعووں کی بنیاد پر 20 فیصد حصہ وصول کرلیا، سزا ٹیکس گذاروں کو ملی۔سابق وزیراعظم

کے صاحبزادے کا کہنا تھاکہ جلسوں میں بڑے دعوے کرنے والوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ ثبوت پیش کریں۔انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں پروپیگنڈے اور جھوٹ کا کارخانہ لگا ہوا ہے، ایک ارب ڈالر منتقل کرنے کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔حسین نواز نے کہاکہ فارن فنڈنگ کیس میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کا ایکشن

نہ لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔اْنہوںنے کہاکہ کوششوں کے باوجود پاکستان سے باہر کسی ملک میں ہمارے خلاف کیس رجسٹر نہ ہونا بیگناہی کا ثبوت ہے۔سابق وزیراعظم کے صاحبزادینے یہ بھی کہا کہ کابینہ میں شامل کرپٹ وزراء کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، معاہدے کے مطابق اگرحکومت پاکستان بھی کوئی رقم برآمد کرتی تواس میں سے بھی براڈ شیٹ کو حصہ ملنا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…