منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

’’مفتی عبدالقوی ذہنی مریض قرار‘‘ گھر والوں نے موبائل فون بھی ضبط کرلیا

datetime 22  جنوری‬‮  2021 |

ملتان(آن لائن)’’معروف عالمی دین کی میڈیکل رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ عبد القوی ذہنی مریض ہیں جس کے بعد اہلخانہ نے انہیں آئسولیٹ کرتے مفتی کا لفظ واپس لیا اور ان کے موبائل فون بھی ضبط کر لیے ہیں‘‘ ۔تفصیلات کے مطابق معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ کی وجہ سے مختلف تنازعات کی زد میں رہنے والے مفتی عبدالقوی کو اہلخانہ نے گھر میں آئسولیٹ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق مفتی قوی کے

ذاتی معالج حافظ عبدالکبیر نے کہا ہے کہ پوری کوشش ہے کہ مفتی قوی کو عوامی اجتماعات سے دور رکھیں، کیوں کہ مفتی قوی کی سوچ ان کے کنٹرول سے نکل چکی ہے، اسی لیے مفتی قوی کو گھر میں آئسولیٹ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مفتی قوی کے چچا عبدالواحد ندیم نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا خاندان عزت والا خاندان ہے جس نے ہزاروں لوگوں کو تعلیم دی لیکن مفتی قوی نے خاندان کو بہت نقصان پہنچایا، جس کی وجہ سے ہمارا خاندان غم میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم مفتی قوی سے مفتی کا لفظ واپس لے رہے ہیں، کیوں کہ مفتی قوی نے ہمارے خاندان کا بہت نقصان کیا ہے، اس لیے آج سے مفتی قوی کو مفتی نہ کہا جائے۔دوسری طرف ٹک ٹاک اسٹارحریم شاہ نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے مفتی عبدالقوی کو تھپڑ مارنے والی ویڈیو باقاعدہ منصوبہ بندی سے بنائی تھی، تاہم مفتی عبدالقوی کو میں نے نہیں بلکہ میری کزن نے تھپڑ مارا تھا، مفتی عبدالقوی کو تھپڑ مارنے والی لڑکی عائشہ شاہ میری کزن ہے، عائشہ شاہ سافٹ ویئر انجینئر ہے اور مفتی عبدالقوی سے یہ ان کی پہلی ملاقات تھی تاہم عبدالقوی نے غلط بات کی اسلئے اس نے تھپڑ مارا۔حریم شاہ سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ نے مارپیٹ کرنے اور ان کو ایکسپوز کرنے کے لیے بلایا تھا اور آپ نے مفتی عبدالقوی کو ٹارگٹ کیا؟ اس کے جواب میں حریم شاہ نے کہا کہ ہاں میں نے ٹارگٹ کیا کیوں کہ اس بار عبدالقوی میرا ٹارگٹ تھے، مگر یہ عمل ان کی والدہ کو پسند نہ آیا، اس کی وجہ سے میری والدہ نے مجھے ڈانٹا اور کہا کہ بس اب یہ رہتا تھا یہ بھی کرلیا۔‎تاہم ان کی میڈیکل رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ ذہنی مریض ہیں جس کی وجہ سے ان سے مفتی کا خطاب واپس لیا گیا ہے اور ان کے موبائل بھی ضبط کر لیے گئے ہیں ۔



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…