منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

’’ہم الخالد ٹینک تو بنا رہے ہیں ، لیکن گاڑی کیوں نہیں بنا سکے ‘‘ وفاقی وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا حیران کن انکشاف

datetime 22  جنوری‬‮  2021 |

راولپنڈی(این این آئی)وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہم الخالد ٹینک تو بنا رہے ہیں تاہم گاڑی نہیں بنا سکتے اس کی وجہ سول ملٹری تعلق درست نہ ہونا رہا ہے مگر ہم سول ملٹری روابط بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے

بارانی یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید دنیا کسی سیاستدان یا مولوی نے نہیں یونیورسٹی نے بنائی، ترقی کی بنیاد دلیل اور منطق ہے، ماضی سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہے، جب فیصلے وقت پر نہ ہوں تو دہائیاں سزا بھگتنا پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈسٹریل بائیو ٹیکنالوجی اور ایگری کلچر ٹیکنالوجی کو اکٹھا کررہے ہیں، دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام رکھتے ہوئے ہم بہت پیچھے ہیں، مولیاں گاجر بیچ کر ہم ترقی نہیں کر سکتے اس لیے ترقی کے لیے زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔فواد چوہدری نے کہا کہ ہم الخالد ٹینک تو بنا رہے ہیں لیکن گاڑی نہیں بنا سکتے اس کی وجہ سول ملٹری تعلق درست نہ ہونا رہا ہے لیکن ہم سول ملٹری روابط بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں، ہمیں ڈرون مینو فیکچرنگ ملٹری کے تعاون سے ملے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 22 کروڑ عوام کے لیے ہم ملک میں کچھ نہیں بنا رہے، نجکاری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنے ملک میں خود چیزیں بنائیں، اگلے پانچ سال میں تبدیل پاکستان نظر آئیگا۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن کو ملک قیوم اور افتخار چوہدری کے سوا کو ئی جج نظر نہیں آتا، براڈ شیٹ انکوائی کمیٹی میں کوئی حکومتی وزیر شامل نہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ مریم نواز گھر سے منہگے ترین ڈریس ڈیزائنر کے کپڑے پہن کر نکلتی ہیں، یہ بتاتے کیوں نہیں کہ پیسے کہاں سے آئے ہیں، ہمیں کسی کو جیل میں رکھنے کا شوق نہیں عوام کے پیسے واپس کریں۔



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…