منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

چیئرمین سینیٹ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کی حمایت کردی

datetime 22  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی حمایت کردی۔چیئرمین سینیٹ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سیکرانے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر صدارتی ریفرنس پر اپنا جواب جمع کرادیا جس میں انہوں نے اوپن بیلٹ کی حمایت کی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے 5 صفحات پر مبنی جواب ایڈووکیٹ آن رکارڈ طارق عزیز کے ذریعے جمع کرایا

جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ انتخابات 2015 میں دھاندلی اور فلورکراسنگ کے الزامات سامنے آئے جس کے بعد سینیٹ ارکان کے انتخابات کے طریقہ کارپربحث مباحثہ ہوا۔صادق سنجرانی کے جواب میں کہا گیا کہ سینیٹ ایوان کمیٹی میں سفارش کی گئی کہ بیلٹ پیپر کے پیچھے ووٹر کا نام درج ہو اور شک کی صورت میں پارٹی سربراہ کو ووٹ کی تفصیلات دیکھنے کا اختیار ہو۔چیئرمین سینیٹ نے اپنے جواب میں کہا کہ شفاف اوپن سینیٹ انتخابات اس وقت وسیع تر قومی مفاد میں ہیں، سینیٹ الیکشن سے متعلق آئین خاموش ہے اور آئین کی تشریح کرنا خالصتاً سپریم کورٹ کا کام ہے، آئین اور متعلقہ قوانین کی تشریح تمام اسٹیک ہولڈرز کا تقاضا ہے جب کہ شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی بھی ذمہ داری ہے۔جواب میں کہا گیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز تسلیم کرتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن شفاف ہونے چاہئیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والا اقرار کرے اور نتائج کا سامنا کرے۔واضح رہے کہ صدر مملکت نے سینیٹ کے الیکشن میں اوپن بیلٹ، شو آف ہینڈز کے معاملے پرسپریم کورٹ کی رائے مانگی ہے جو آئین میں ترمیم کیے بغیر الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن (6) 122 میں ترمیم کے لیے مانگی گئی ہے۔حکومتی ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سینیٹ انتخابات کا طریقہ کار آئین میں واضح نہیں ہے، سینیٹ کا انتخاب الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کرایا جاتا ہے، سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت ہوسکتا ہے اور اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن میں شفافیت آئے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…