منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

وزارت پٹرولیم بڑے صنعتکاروں اور تاجروں کے سامنے بے بس، کروڑوں کی ریکوری کرنے میں ناکام

datetime 21  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن )پبلک اکائونٹس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ وزارت پٹرولیم مختلف صنعتکاروں اوور تاجروں سے 81ارب 80کروڑ روپے کی ریکوری کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے ،جس پر پی اے سی نے حکومت کو ہدایت کی وہ گیس صارفین سے بقایا جات کی ریکوری کو بہتر بنائے،وزارت پٹرولیم نے بل ادا نہ کرنے والی بڑی

صنعتوں اور سی این جی سٹیشنز کا مکمل ریکارڈفراہم کر دیا ،پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس راجہ ریاض کی صدارت میں ہوا جس میں پٹرولیم ڈویژن سال 2018-19آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا،اس موقع پر بتایا گیا کہ بلوچستان میں سالانہ 10 ارب روپے کی گیس چوری ہوتی ہے، بلوچستان میں 60 فیصد گیس لاسز کی نذر ہو رہی ہے بلوچستان میں بیشتر لوگ گیس کے بل ادا نہیں کر سکتے، بلوچستان میں اوسط گیس بل 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، ایسی صورتحال میں لوگ گیس چوری کرتے ہیں، حکومت اور متعلقہ اداروں کو معاملے کا حل نکالنا ہو گا، اجلاس میں وزارت پٹرولیم کے مالی سال 2018-19 کے آڈٹ پیراز پر غورکیا گیا،آڈٹ حکام نے بتایا کہ وزارت پٹرولیم کی جانب سے مختلف کمپنیوں سے 81 ارب 80 کروڑ کی ریکوری نہیں ہوئی، سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ 10 ارب روپے کی ریکوری ہو چکی ہے کچھ کمپنیوں نے عدالتوں سے حکم امتناع لے رکھا ہے، نور عالم خان نے کہا کہ جن کمپنیوں نے حکم امتناع لیا ان کی تفصیلات فراہم کریں،کے الیکٹرک نے سوئی سدرن گیس کمپنی کو ادائیگیاں کیوں نہیں کیں،اور اس موقع پرپبلک اکاونٹس کی ذیلی کمیٹی نے کے الیکٹرک حکام کو طلب کر لیا،سوئی سدرن نے معاہدے کے بغیر کے الیکٹرک کو گیس سپلائی دی، اس وقت بھی فریقین کے درمیان گیس سپلائی معاہدہ

موجود نہیں،کے الیکٹرک نے سوئی سدرن کو 38 ارب روپے ادا کرنے ہیں،سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان معاملہ حل طلب ہے،مسئلہ یہ ہے کہ گیس نہ دیں تو کراچی والوں کو بجلی نہیں ملے گی،کے الیکٹرک کے ذمہ زیادہ رقم لیٹ پیمنٹ سرچارج کی مد میں ہے،کے الیکٹرک سے زیادہ دباو وزارت پٹرولیم پر ہے،سوئی سدرن حکام نے بتایا کہ کے الیکٹرک جس طرح کا معاہدہ چاہتی ہے ہمارے لئے قابل قبول نہیں،ہم اس

معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں لیکن کے الیکٹرک نہیں کر رہی، کنوینئر راجہ ریاض آئندہ اجلاس میں کے الیکٹرک کی انتظامیہ کو بلایا جائے،ملک میں اتنی گیس نہیں کہ ہر شہری کو فراہم کی جا سکے،سیکرٹری پٹرولیم کی پبلک اکاونٹس کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ میں مزید کہا کہہمیں مستقبل میں زیادہ انحصار ایل پی جی پر کرنا پڑے گا،ہمارے لوگ ایل پی جی سلنڈر کا استعمال توہین سمجھتے ہیں،ہم نے سارا ورک آوٹ کیا ہے کہ ایل پی جی سلنڈر کیوں بہتر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…