منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

گاڑی کا ٹائر پائوں پر کیوں چڑھایا؟ پولیس اہلکاروں نے نوجوان کو گولیاں مار کر قتل کردیا

datetime 21  جنوری‬‮  2021 |

فیصل آباد( آن لائن ) پٹرولنگ پولیس کی فائرنگ سے شہری کی ہلاکت کے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے4 نامز اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے پیٹرولنگ پولیس کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ ڈجکوٹ کے علاقے میں پیش آیا جہاں ناکے پر موجود پولیس اہلکاروں نے ایک گاڑی کو مشکوک خیال کرتے

ہوئے روکنے کی کوشش کی جس پر شہری اور اہلکاروں میں تلخ کلامی ہوگئی بعد ازاں کارسواروں نے گاڑی روکنے کے بجائے گاڑی بھگا دی جس پر اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک کار سوار جاں بحق جب کہ تین افراد زخمی ہو گئے ،لاش اور زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔ مقدمہ میں نامزد چاروں پٹرولنگ اہلکاروں کو پولیس پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں پٹرولنگ پولیس کے اہلکاروں کو قصوروار قرار دے دیا گیا ہے۔سی پی او نے آئی جی کو ابتدائی انکوائری رپورٹ بھیج دی ہے جس میں بتایا گیا کہ اہل کاروں نے کار روکنے کی کوشش کی۔کار نہ رکنے پر اہل کاروں نے تعاقب کرتے ہوئے فائرنگ کی۔ پھرالہ گاوں میں کار سوار گاڑی چھوڑکر پیدل بھاگے۔رپورٹ کے مطابق فائرنگ سے وقاص نامی شخص شدید زخمی ہوا جس کو اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہیں ہوسکا۔ابتدائی تحقیقات میں پٹرولنگ پولیس کی غفلت پائی گئی ہے۔ اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا اور قواعد نظر انداز کیے۔

۔پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ مقتول کے بھائی کی مدعیت میں 4 اہلکاروں کے خلاف تھانہ ڈجکوٹ میں درج کرلیا گیا ہے۔پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈجکوٹ میں ناکے پرگاڑی نہ رکنے پر اہلکاروں نے وقاص احمد پر فائرنگ کی، وقاص احمد کی کارکا ٹائر اے ایس آئی شاہد رسول کے پاؤں پر چڑھ گیا تھا جس پر اہلکاروں نے مشتعل ہوکربندوقیں تان لیں جب کہ وقاص نے خوفزدہ ہوکرکاردوڑا دی۔پولیس رپورٹ کے مطابق اہلکاروں نے پیچھاکرکے کار روکی اور وقاص کو نکال کرگولی ماردی ۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…