“مولانا کو ایسا حلوہ کھلائیں گے جس سے طبیعت خراب نہ ہو “علامہ طاہر محمود اشرفی کی فضل الرحمان کو حیران کن پیشکش

  اتوار‬‮ 17 جنوری‬‮ 2021  |  19:57

لاہور(این این آئی)تمام مکاتب فکر کے متفقہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کاروائی کی جائیگی، نفرت انگیز تقریر و تحریر کی اجازت نہیں دی جا سکتی، فلسطینی صدر نے وزیر اعظم عمران خان کے فلسطین کے مسئلہ پر موقف کو جرات مندانہ اور امت مسلمہ کی ترجمانی قرار دیا ہے، موجودہ حکومت عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت کی چوکیدار ہے، توہین ناموس رسالتاور فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف عالمی سطح پر قانون سازی کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، مدارس عربیہ کی وزارت تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن کا فیصلہ موجودہ حکومت


کا کارنامہ ہے، انٹرفیتھ ہارمنی کونسلز کے قیام سے بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمہ کو تقویت ملے گی، پاکستان کا آئین اور قانون مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق کا محافظ ہے، متروکہ وقف املاک بل پر مدارس و مساجد کے جائز تحفظات کو دور کیا جائے گا، اس سلسلہ میں اسپیکر قومی اسمبلی علما و مشائخ سے رابطے میں ہیں، تمام اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور استحکام پیدا ہوا ہے، آئین کی اسلامی دفعات اور توہین ناموس رسالت کے قانون کے محافظ ہیں،برادر اسلامی عرب ممالک کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھارہے ہیں، سعودی عرب نے پاکستان کے سیاسی امور میں کبھی بھی مداخلت نہیں کی، سعودی عرب کی پاکستان اور پاکستان کی عوام سے دوستی اور تعلق ہے، دوست ممالک کے بارے میں افواہ سازی سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی کو سیاست کی آڑ میں فتوے بازی نہیں کرنے دیں گے،حکومت کسی کو ملک میں فرقہ واریت پھیلانےاورعقیدہ ختم نبوت ؐکی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،مولانا فضل الرحمان اسلام آباد آئیں ہم اُنہیں ایسا حلوہ کھلائیں گے، جس سے طبیعت خراب نہ ہو ۔ان خیالات کا اظہار چیئرمین پاکستان علما کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے متحدہ علما بورڈ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علامہ کاظم رضا، مولانا محمد خان لغاری، علامہ پیر زبیر عابد، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا اسید الرحمن سعید، علامہ اصغر عارف چشتی، مولانا محمد نعیم بادشاہ، مولانا محمد اسلم قادری، قاری شمس الحق، حافظ محمدنعمان حامد، مولانا محمد اسلم صدیقی، علامہ یونس حسن،قاری مبشر رحیمی، مولانا عبد الحکیم اطہر، سید فرزند علی اور دیگر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں ملک میں دین کا نام لے کر انتشار پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ حزب اختلاف کے ذمہ داروں کو ٹی وی پر مناظرہ کا چیلنج دیتا ہوں کہ موجودہ حکومت مدارس و مساجد، عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت کی چوکیدار ہے۔ اسلام کا نام لے کر اسلام آباد کے خواب دیکھنے والوں نے ملک میں انتشار کی فضا پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔ آج فلسطین کے مسئلہ پر فلسطینی قوم اور امت مسلمہ عمران خان کوامت مسلمہ کا ترجمان کہہ رہی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ عمران خان کے فلسطین کے مسئلہ پر جرات مندانہ موقف کے بعد حزب اختلاف کے بعض قائدین کو بھی فلسطین یاد آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک می کسی کو نفرت نہیں پھیلانے دیں گے۔ مقدسات کی توہین کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔ ہندوستان اور پاکستان دشمن لابیاں ملک میں فرقہ وارانہ فسادات چاہتی ہیں جن کو باہمی اتحاد سے ناکام بنایا گیا ہےاور ناکام بنائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ تمام اسلامی و عرب ممالک کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔ منفی پراپیگنڈہ کرنے والے عناصر جان لیں کہ پاکستان کے تمام عرب اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات نہایت مستحکم اور مضبوط ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب کے تعلقات پاکستان اور پاکستان کی عوام کے ساتھ ہیں۔ سعودی عرب نے کبھی پاکستان کے داخلی و خارجی معاملات میںمداخلت نہیں کی ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق شاہ سلمان نے نواز شریف کو سعودی عرب کے دورہ کی دعوت نہیں دی ہے۔ یہ تاثر پھیلانا کہ سعودی عرب یا کوئی اور دوست ملک حزب اختلاف کی سرپرستی کر رہا ہے، درست نہیں ہے۔ سعودی عرب پاکستان کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، ماضی میں بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہماری سیاسی قیادت نے ہی اپیلیں کی تھیں۔ الحمدللہ پاکستان ایکمضبوط اور مستحکم ملک ہے، ہم اپنے دوست اور برادر ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتے ہیں۔ نہ ہم کسی کی داخلہ و خارجہ پالیسی میں مداخلت کرتے ہیں اور نہ ہی ہماری داخلہ و خارجہ پالیسی میں کوئی مداخلت کر سکتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ انٹر فیتھ ہارمنی کونسلز کے ملک بھر میں کنوینئر بنائے جا رہے ہیں، تمام مذاہب و مکاتب فکر کے ذمہ داران سے رابطے میں ہیں۔ جلد وزیر اعظم اور صدر مملکت قومی اور بین الاقوامی موجودہ صورتحال پر علما و مشائخ سے ملاقات کریں گے اور اہم امور پر مشاورت کی جائے گی۔


زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎