منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

کسٹمز افسران کو منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کے اختیارات دے دیے گئے

datetime 14  جنوری‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی )فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اسمگلنگ کے سد باب کیلئے اہم اقدامات کیے ہیں جس کے تحت کسٹم افسران کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اسمگلنگ کی کمائی سے بنائی گئی جائیداد کو تحویل میں لے سکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم سے خریدے گئے اثاثوں کیخلاف اب کسٹم بھی ایکشن لے

سکے گا، ایف بی آر نے کسٹمز افسران کو اثاثے ضبط کرنے کے اختیارات دے دئیے۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ کسٹمز افسران اب اسمگلنگ کے پیسوں سے بنائی گئی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کرسکیں گے۔ایف بی آر نے اس سلسلے میں ایس آر او 5دو ہزار21 جاری کردیا، اسمگلنگ سے حاصل رقم سے خریدی گئی جائیداد کسی صورت قانونی نہیں، کسٹمز افسران عدالتی حکم کے بعد جائیداد کو نیلام کرنے کا بھی حق رکھتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے سال 2020 میں نجی شعبے کو بینکوں سے زیادہ فنڈنگ فراہم کی، فنڈنگ فراہمی کا سلسلہ نئے سال میں بھی جاری ہے۔ اینگرو پولیمر نے ایکسچینج سے تین ارب روپے حاصل کئے ہیں۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اینگرو پولیمر کے پریفرنس شیئرز کی لسٹنگ تقریب میںکمپنی کے سی ای او جہانگیر پراچہ نے روایتی بیل بجا کر کاروبار کا آغاز کیا۔اینگرو پولیمنر نے دس روپے مالیت کے تیس کروڑ شیئرز فروخت کرکے تین ارب روپے حاصل کئے ہیں۔تقریب سے اپنے خطاب میں جہانگیر پراچہ نے ترجیحی شیئرز کے کامیاب اجرا پر سرمایہ کاروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اینگرو پر اعتماد کا مظہر بھی ہے،پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سی او او نادر رحمان نے اس موقع پر کہا کہ ایک اچھی، مضبوط اور ترقی کرتی کمپنی کے ترجیحی شیئرز

میں سرمایہ کاری کا بہترین موقع تھا۔ اینگرو اسٹاک ایکسچینج سے حاصل کئے گئے فنڈز کو اپنے موجودہ انتظام کی بہتری اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے استعمال کرے گا۔تقریب سے عارف حبیب سیکیورٹیز کے سی ای او شاہد علی حبیب نے کہا کہ کورونا وبا کے باوجود اینگرو پولیمر کے پریفرنس شیئرز کے کامیاب اجرا انکی کمپنی کے لئے فخر کی بات ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…