پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

عمران خان جیت گئے، ”بلیک میلرز“ ہار گئے، وزیراعظم پر صحافیوں کی شدید تنقید

datetime 9  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ مچھ کے شہداء کی تدفین کر دی گئی ہے، گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھاا کہ مچھ واقعہ پرہزارہ برادری کے تمام مطالبات مان لیے ہیں، میں ضرور پہنچوں گا، کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے ورنہ ہر کوئی بلیک میل کریگا، خاص طور پر ڈاکوؤں کا ایک ٹولہ

ڈھائی سال سے کرپشن کیسز معاف کرنے کے لیے بلیک میل کررہا ہے، وزیراعظم عمران خان کے بلیک میل کرنے والے جملے پر شدید ردعمل سامنے آیا، گزشتہ روز سوشل میڈیا پر بھی ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا، اس فقرے پر صحافیوں نے بھی وزیراعظم عمران خان پر شدید تنقید کی ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر غریدہ فاروقی نے کہا کہ وزیراعظم کی ضد جیت گئی، ”بلیک میلرز“ ہار گئے، پہلے دھرنا ختم، شہداء کی تدفین، پھر وزیراعظم لواحقین کے پاس جائیں گے، اس ملک میں مقتول اور مظلوم کو انصاف ملنے کے لئے حاکم کی ہی ماننی پڑتی ہے۔ واہ رے انصاف، کم از کم اتنا تو دل کو تسلی ہے کہ شہداء کے اجسام بھی آخر کار سپرد خدا ہوں گے۔ زاہد گشکوری نے کہا کہ دھرنا ختم، وزیراعظم جیت گئے، مچھ میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین ہار گئے۔ جویریہ صدیقی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ وزیراعظم جیت گئے اور ہزارہ برادری ہار گئی۔ امبر رحیم شمسی نے اپنے ٹوئٹ میں کہاکہ طاقت دوبارہ جیت گئی، انہوں نے لکھا کہ ہزارہ والے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال سے بات چیت کے بعد اپنے پیاروں کی تدفین کے لئے راضی ہو گئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا تھا کہ بھارت پاکستان میں فرقہ وارانہ انتشار پھیلانا چاہتا ہے، مچھ واقعہ بھی اسی سازش کا

حصہ ہے، خفیہ ایجنسیوں نے چار بڑے واقعات کو رونما ہونے سے روکا، کابینہ میں بتایا تھا علما کو مار کرانتشار پھیلایا جائیگا، بڑی مشکل سے ہم نے آگ بجھائی۔اسپیشل اکنامک زونز اتھارٹی کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاید سب سے زیادہ ظلم ہزارہ برادری کے لوگوں پر ہوا، خاص طور پر گزشتہ 20 برسوں میں 11 ستمبر 2001 کے بعد ان کے اوپربہت ظلم ہواوہ کسی اور برادری پر نہیں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…