جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

حکومت نے سانحہ مچھ کے ملزمان کی اطلاع دینے والے کیلئے انعام مقرر کر دیا

datetime 8  جنوری‬‮  2021 |

کوئٹہ (آن لائن)حکومت بلوچستان نے مچھ واقعہ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری پر انعام مقرر کردیا، حملہ آوروں کی اطلاع دینے والے کو 20لاکھ روپے نقد انعام دیاجائے گا۔ سی ٹی ڈی پولیس کے مطابق تحصیل مچھ ڈسٹرکٹ بولان کے علاقے گشتری میں کوئلہ کان پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس میں 10بے گناہ کانکن جان کی بازی

ہارگئے جبکہ ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ملزمان کے خلاف مقدمہ فرد نمبر01/2021پولیس تھانہ سی ٹی ڈی نصیرآباد میں درج کرلیاگیاہے واقعہ میں ملوث ملزمان کے بارے میں عوام الناس میں اگر کسی کے پاس کوئی بھی معلومات ہو جو ملزمان کی گرفتاری میں مدد دے سکے تو حکومت بلوچستان کی جانب سے اطلاع دینے والے کانام صیغہ راز میں رکھاجائیگا بلکہ ان کو حکومت کی طرف سے 20لاکھ روپے نقد انعام بھی دیاجائے گا۔یاد رہے کہ سانحہ مچھ کے لواحقین اور ہزارہ برادری کا دھرنا چھ روز سے جاری ہے، دوسری جانب مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اگر تکبر اور ہٹ دھرمی کا کوئی چہرہ ہوتا تو وہ عمران خان جیسا ہوتا۔ ہزارہ برداری سے متعلق وزیرا عظم کا بیان انسانیت سے عاری ہے۔میں سلیکٹرز سے بھی سوال کرتی ہوں کہ کیا 22 کروڑ عوام میں یہ ہی ایک سوغات ملی تھی’۔موجودہ حکومت کی پے در پے غلطیوں پر عوام اب سلیکٹرز سے جواب طلب کررہے ہیں ‘۔ کیا سلیکٹرز جانتے ہیں کہ ان کے انتخاب کی وجہ سے برادر دوست ناراض ہوئے، خارجہ پالیسی برباد کردی، گورننس کا ستیاناس کیا اور اب مظلوموں کو بلیک میلرز کا لیبل دے کر انسانیت کی توہین کی جارہی ہے۔جس کو کوئٹہ جانے کی اجازت نہیں مل رہی اسکی کیا حیثیت این آر او دینے کی،وزیراعظم

کے پاس کتوں سے کھیلنے اورڈرامے دیکھنے کاوقت ہے،متاثرین سے بات کرنے کا نہیں۔ ہزارہ برداری سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اپنے پیاروں کو دفنادیں کیونکہ جس انسان سے آپ امید لگائے بیٹھے ہیں اس کے سینے میں دل نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی رہائش گا ہ پرپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگ زیب،سینیٹر

پرویز رشید،احسن اقبال،رانا ثناء اللہ،سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان،خواجہ طارق نذیر،علی اکبر گجر اور دیگر بھی موجود تھے۔ مریم نواز نے کہا کہ ہزارہ برادری پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ہم لوگ گزشتہ روز انھیں دلاسہ دینے گئے تھے، اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے لاہور جانا تھا، کوئٹہ سے واپسی پر کراچی رکنا پڑا، میرا یہاں پریس کانفرنس کا کوئی پروگرام نہیں تھا لیکن وزیراعظم کے حالیہ بیان نے مجھے انھیں جواب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…