منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت ہے جس کے ڈانڈے اسلام آباد سے مچھ تک ملتے جلتے ہیں،مخدوم جاوید ہاشمی بھی سانحہ مچھ پر بول پڑے

datetime 8  جنوری‬‮  2021 |

جہانیاں(این این آئی) سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت ہے جس کے ڈانڈے اسلام آباد سے مچھ تک ملتے جلتے ہیں،بات دہشت گردی سے بھی آگے نکل گئی ہے،مچھ سانحہ کے لواحقین کے زخموں پر پھاہا رکھنے کے بجائے حکومت کی جانب سے ان کے زخموں پر نمک پاشی کی جا رہی

ہے،کوئٹہ واقعہ بد امنی پھیلانے کی سازش ہے،بلوچستان کے امن کو کرچی کرچی کر دیا گیا ،اس واقعہ میں مذہبی منافرت نہیں بلکہ دشمن ملک کا ہاتھ ہو سکتا ہے،حکمرانوں کی ضمیر کی خلش محسوس کرتے ہوئے اقتدار چھوڑ دینا چاہیے کہ ملک چلانا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری خلیل احمد گھمن سے ملاقات کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ کان کن ملک کا ایک انتہائی غریب طبقہ ہے مچھ واقعہ میں انسانوں کو ذبح کر دیا گیا یہ کوئی لوکل واقعہ نہیں ہے نہ ہی اس میں مذہبی منافرت کارفرما ہے ،یہ حکومت کی ناکامی ہے ،ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت ہے جس کے ڈانڈے اسلام آباد اور مچھ سے ملتے جلتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے فرائض منصبی میں شامل تھا کہ وہ مچھ میں جا کر زخموں پر پھاہا رکھتے لیکن حکومت کی جانب سے تو ان کے زخموں پر نمک پاشی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مچھ کوئٹہ کا واقعہ سے بلوچستان کے امن وامان کو کرچی کرچی کر دیا گیا ہے بات اب دہشت گردی سے بھی آگے نکل گئی ہے،حکومت ناکام ہو چکی ہے وہ اسلام آباد میں بھی ناکام تھی اور بلوچستان میں بھی ناکام ہو چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو ضمیر کی خلش کو محسوس کرنا چاہیے کہ ملک چلانا ان کے بس کی بات نہیں ہے حکمرانوں کو ضمیر کی خلش محسوس کرنی چاہیے اورعوام کو مزید سزا دینے کے بجائے اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…