پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

کرپشن، خیانت اور جھوٹ سے باز نہ آنے پر ہم نے مولانا فضل الرحمان سے راستہ الگ کیا، مولانا عبدالقادر لونی بھی میدان میں آ گئے

datetime 26  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے نائب امیر مولانا عبد القادر لونی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے 1988 سے موروثی سیاست، جھوٹ اور کرپشن ڈے اکابرین کو بدنام کیا،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے باریاں لگا کر حکومت کی،اب قانون کے مطابق دونوں جماعتیں تحریک انصاف کو بھی پانچ کی مدت پوری کرنے دیں،حکومت گرانا مسائل کا حل نہیں،

جمہوری استحکام کیلئے پارلیمنٹ کردار ادا کرے،مولانا شیرانی بھی سلیکٹڈ تھے اور فضل الرحمان بھی سلیکٹڈ ہیں،دونوں رہنماؤں میں کوئی فرق نہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان نے 1988 سے موروثی سیاست، جھوٹ اور کرپشن ڈے اکابرین کو بدنام کیا،کرپشن،خیانت اور جھوٹ سے باز نہ آنے پر ہم نے ان سے راستہ الگ کیا،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے باریاں لگا کر حکومت کی،اب قانون کے مطابق دونوں جماعتیں تحریک انصاف کو بھی پانچ کی مدت پوری کرنے دیں،حکومت گرانا مسائل کا حل نہیں، جمہوری استحکام کیلئے پارلیمنٹ کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم اور دھرنے صرف حصول اقتدار اور موروثی سیاست کی خواہش ہے،پی ڈی ایم پارلیمانی نظام کے خلاف بغاوت، آئین اور جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی کوششوں میں مصروف ہے،پی ڈی ایم کی قیادت ماضی قریب میں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزام لگا چکے ہیں،اپوزیشن کی سیاسی محاذ آرائی سیاست اور جمہوریت کیلئے نقصان پہنچانے کا موجب بن رہی ہے،31 سال میں اقتدار میں رہنے والے ملک و قوم کے مسائل حل۔کرنے میں ناکام رہے،نواز شریف اور آصف زرداری نے این آر او حاصل کرنے کیلئے مولانا فضل الرحمان کو وکیل بنایا ہے،انہوں نے کہاکہ مولانا شیرانی بھی سلیکٹڈ تھے اور فضل الرحمان بھی سلیکٹڈ ہیں،مولانا شیرانی نے جعل سازی کی بنیاد رکھی جسے اب مولانا فضل الرحمان نے پروان چڑھایا،دونوں رہنماؤں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…