پاکستانی اثاثے منجمد کرنے کا حکم ،برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے پاکستان کو سنے بغیر حکم دیا،ملکی مفادات کا ہر صورت دفاع کرنے کا اعلان

  جمعرات‬‮ 24 دسمبر‬‮ 2020  |  23:57

اسلام آباد (این این آئی) ریکوڈک کیس میں برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے عبوری حکم جاری کردیا جس کے مطابق ٹیتھیان کمپنی کی جانب پاکستان کے اثاثے منجمد کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی, عبوری حکم برٹش ورجن آئی لینڈ ہائیکورٹ نے 16دسمبر 2020 کوجاری کیا نجی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے اٹارنی جنرل آفس نے بتایاکہ کا کہنا ہے کہ برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے پاکستان کو سنے بغیر حکم دیا، حکومت وسائل استعمال کرکے پاکستان کے مفادات کا دفاع کرے گی۔واضح رہے کہ اکسڈ نے12 جولائی 2019 کو 5.6ارب ڈالر جرمانہ


جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا پاکستان نے5.6 ارب ڈالر جرمانے کے خلاف اکسڈ سے مشروط حکم امتناع لیا تھا ، مشروط حکم امتناع کے تحت پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالرغیر ملکی بینک میں جمع کرانا تھے، حکم امتناع مدت ختم ہونے پر ٹیتھیان نے برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ میں درخواست دی۔یاد رہے کہ عالمی بینک کے ایک ٹربیونل نے جولائی 2019 میں پاکستان کی طرف سے ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے ساتھ کان کنی کا معاہدہ ختم کرنے پر تقریباً چھ ارب ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ پاکستان نے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی جس پر ٹربیونل نے عارضی حکم امتناع دے رکھا تھا۔خیال رہے کہ کمپنی کو سونے، تانبے کے ذخائر کی تلاش کا لائسنس جاری کیا گیا تھا، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے 2011 میں ریکوڈک معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔بین الاقوامی عدالت میں کیس کے دوران پاکستان ہرجانے کی رقم 16 ارب سے 6 ارب ڈالر کرانے میں کام یاب ہوا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎