پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

جہالت کی انتہا، ویکسین کے ذریعے ہمارے جسم میں سور اور بندر کا ڈی این اے ڈالا جائے گا، حکومت کو ویکسین کی خریداری سے روکنے کیلئے معاملہ عدالت جا پہنچا

datetime 22  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت نے حکومت کو کورونا ویکسین خریداری سے روکنے کی درخواست پر کیس کی سماعت کی عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا دوران سماعت

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ ویکسین میں کوئی مسئلہ ہے تو آپ ویکسین نا لگوائیں؟ درخواست گزار کے وکیل طارق اسد نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ ہم نہیں لگوائیں گے تو کہیں بھی ٹریول نہیں کر سکیں گے،ویکسین میں ایک چپ بھی انسان کے جسم کے اندر لگ جائے گی ہم کہاں ہیں کیا کر رہے ہیں سب کچھ مصنوعی اینٹلی جنس سے معلوم ہو سکے گا۔بل گیٹس کا آبادی کم کرنے کا ایک ایجنڈا بھی ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،اس ویکسین سے لوگوں کی اموات ہوں گی اور وہ کورونا میں ڈال دیں گے،اس ویکسین کے ذریعے ہمارے جسم میں سور اور بندر کا ڈی این اے ڈالا جائے گا عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وہ صرف ہمیں بندر بنائیں گے؟جس پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ نہیں یہ دنیا بھر میں ایسا ہی ہو گا ہم تو بالکل ہی ان کے غلام ہوں گے،اس وقت گویا بطور قوم ہم سب حوالات میں ہیں آئندہ جیل میں ہوں گے،عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…